جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 31 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 31

31 اس مباحثہ کے دوران حضور نے یہ پیشگوئی بھی فرمائی کہ اس بحث میں جو فریق جان بوجھ کر جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے وہ پندرہ مہینوں تک ہاویہ (یعنی عذاب ) میں مبتلا ہوگا۔اور اگر اُس نے حق کی طرف رجوع نہ کیا تو خدا تعالیٰ اسے سخت ذلیل کرے گا۔( تذکره صفحه 239) اس پیشگوئی میں صاف کہا گیا تھا کہ اگر آتھم نے رجوع نہ کیا تو وہ ہاویہ میں گرایا جائے گا۔آتھم اس پیشگوئی سے سخت گھبرا گیا اور خوفزدہ ہو گیا۔اور مقررہ میعاد میں اس نے اپنی عادت کے خلاف بالکل خاموشی اختیار کر لی اور شوخی اور شرارت کو چھوڑ دیا بلکہ پیشگوئی سن کر اس کے ہاتھ کا پنپنے لگے اور چہرہ کا رنگ فق ہو گیا۔گویا اس نے حق کی طرف رجوع کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اسے مہلت دے دی اور کچھ عرصہ کے لئے وہ عذاب سے بچ گیا۔اس پر مخالفین نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔حضرت اقدس نے اس پر مسٹر کھم کو چیلنج کیا کہ وہ قسم کھا کر کہ دے کے اس عرصہ میں اس پر اسلام کا رُعب طاری نہیں ہوا تو ہم اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیں گے ( انعامی رقم کو حضور نے بعد میں چار ہزار تک بڑھا دیا)۔اس کے علاوہ چونکہ اس نے جھوٹی قسم کھائی ہوگی اس لئے وہ قسم کھانے کے بعد ایک سال کے اندر اندر ضرور ہلاک ہو جائے گا۔حضور نے لکھا کہ اگر اس نے قسم نہ بھی کھائی تو بھی خدا اب اسے سزاد یئے بغیر نہ رہے گا۔آتھم نے چونکہ قسم کھانے سے انکار کر دیا تھا اس لئے پیشگوئی کے عین مطابق وہ 27 جولائی 1896ء کو وفات پا گیا اور اس طرح احمدیت کی فتح کا ایک زبر دست نشان ظاہر ہوا۔عربی میں مقابلہ کی دعوت : 1893ء میں ہی آپ نے غیر احمدی علماء کو دعوت دی کہ وہ عربی نویسی میں