جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 85
85 زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں اُن کی شکست کو اُن کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔“ (اخبار فاروق 21 /نومبر 1934) اس اعلان کے بعد جلد ہی خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ احراری مسلمانوں میں بدنام ہو گئے۔ان کا جھوٹا ہونا سب پر ظاہر ہو گیا۔اور اس طرح بجائے احمدیت کو مٹانے کے وہ خود تباہ ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے محبوب بندے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جو کچھ فرمایا تھاوہ پورا ہوا۔1953ء میں مخالفین نے پاکستان بھر میں نئے سرے سے جماعت پر حملہ (2 کیا۔اس دفعہ انہوں نے اپنی طرف سے 1934 ء سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دئیے۔احمدیت کے خلاف جلسے کر کے اور جلوس نکال کر سارے ملک میں گویا احمدیت کے خلاف نفرت کی ایک وسیع آگ بھڑ کا دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیوں کو لوگ مارنے پیٹنے لگے۔ان کے مکانوں کو لوٹنے اور مسجدوں کو آگ لگانے لگے۔اس وقت پنجاب میں جن لوگوں کی حکومت تھی وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔جگہ جگہ فساد ہونے لگے۔غرض انتہائی خطرناک حالات احمدیت کیلئے پیدا کر دیئے گئے۔مگر عین اسی زمانہ میں جبکہ یہ فتنہ انتہائی زوروں پر تھا۔ہمارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے یہ اعلان فرمایا کہ: - احمدیت خدا کی قائم کی ہوئی ہے۔اگر یہ لوگ جیت گئے تو ہم جھوٹے ہیں لیکن اگر ہم سچے ہیں تو یہی لوگ ہاریں گے۔“ (الفضل 15 فروری 1953) چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہ فتنہ بھی نا کام ہوگیا۔