جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 74
74 پھر حضور نے قرآن مجید کا سلیس ، سادہ اور بامحاورہ اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا اور اس کے ساتھ ضروری مقامات پر تفسیری نوٹ بھی لکھے یہ ترجمہ سب سے 1957ء میں تفسیر صغیر کے نام سے شائع ہوا۔یہ اپنوں اور غیروں میں بہت مقبول ہے۔(2 جماعت کی تربیت کے لئے دوسرا ذریعہ حضور نے خطبات اور تقاریر کا اختیار فرمایا۔قریباً ہر دینی مسئلہ پر اور تربیت کے پہلو پر حضور نے نقار بر فرمائیں اور خطبات دیئے۔یہ تقاریر اور خطبات بہت ہی پر اثر ہیں۔جماعت کی علمی ترقی اور تربیت کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہوئے۔(3 حضور نے 1919 ء میں صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کا نظام قائم فرمایا اور پھر تمام جماعتوں میں باقاعدہ عہدیدار منتخب کرنے اور پھر ان کے کام کی نگرانی کا انتظام فرمایا جس کی وجہ سے جماعت ہر لحاظ سے منظم ہو کر کام کرنے لگی۔(4 جماعت کی تربیت کے لئے حضور نے 1922ء میں احمدی عورتوں کی تنظیم لجنہ اماء اللہ قائم فرمائی۔پھر 1926ء میں ان کے لئے ایک علیحدہ رسالہ مصباح کے نام سے جاری فرمایا۔1926ء میں نصرت گرلز ہائی اسکول قائم کیا اور 1951ء میں بمقام ربوہ جامعہ نصرت قائم کیا۔جس میں احمدی بچیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ان اداروں میں دینی تعلیم کا بھی انتظام فرمایا۔پھر 1938ء میں حضور نے احمدی نو جوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔پھر حضور نے احمدی بچوں کے لئے اطفال الاحمدیہ اور بچیوں کے لئے ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی اور 40 سال سے او پر کی عمر کے احمدیوں کو منظم کرنے کے لئے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی۔ان تنظیموں نے جماعت کی تعلیم و تربیت میں بہت اہم حصہ لیا۔ان کی وجہ سے جماعت کا کام کرنے کے لئے ہزاروں کارکنوں کی ٹریننگ ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے وقت پر