جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 66 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 66

66 تھی اور بتایا تھا کہ یہ بیٹا :- وو صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو۔۔۔۔۔۔گا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔۔۔۔وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم ہوگا اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔۔۔۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا۔وہ جلد جلد بڑھے گا۔۔۔۔زمین کے کناروں تک 66 شہرت پائے گا اور قو میں اس سے برکت پائیں گی۔“ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے وجود میں یہ پیشگوئی اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی پیشگوئی میں جو جو علامتیں بتائی گئی تھیں ہم سب گواہ ہیں کہ وہ سب پوری ہوگئیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ حضرت مسیح موعود نے آپ کی پیدائش پر ایک اشتہار شائع کیا جس میں آپ کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہوئے حضور نے دس شرائط بیعت کا اعلان فرمایا اور پھر کچھ عرصہ بعد 1889ء میں ہی بمقام لدھیانہ پہلی بیعت کا آغاز کیا گیا۔گویا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی پیدائش اور جماعت احمدیہ کا آغاز ایک ہی وقت میں ہوئے۔جب حضرت خلیفہ ثانی تعلیم کیعمر کو پہنچے تو مقامی اسکول میں آپ کو داخل کرا دیا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں چونکہ آپ کی صحت خراب رہتی تھی اس لئے آپ کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب دسویں جماعت کے امتحان تک پہنچے جو کہ اس زمانہ میں یونیورسٹی کا پہلا امتحان تھا تو آپ فیل ہو گئے۔بس آپ نے اسکول کی تعلیم یہیں تک حاصل کی۔تعلیم کے زمانہ میں جب آپ کے اُستاد حضرت مسیح موعود سے آپ کی تعلیمی حالت کا ذکر کرتے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ اس کی صحت