جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 42
42 مدرسہ احمدیہ کی داغ بیل: 1905ء میں جماعت احمدیہ کے دو بہت بڑے عالم اور بزرگ یعنی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی وفات پاگئے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کو یہ خیال پیدا ہوا کہ پرانے علماء کی جگہ لینے کے لئے نئے عالم تیار کرنے چاہئیں۔چنانچہ اسی غرض سے جماعت کے مشورہ سے یہ انتظام کیا گیا کہ تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ساتھ ہی دینیات کی ایک علیحدہ شاخ قائم کر دی گئی۔زلزلہ کانگڑہ: حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ عَفَتِ الذِيَارُ مَحَلُّهَا وَمُقَامُهَا یعنی عنقریب ایسی تباہی آنے والی ہے جس سے رہائش کی عارضی جگہیں اور مستقل جگہیں دونوں تباہ ہو جائیں گی۔چنانچہ اس الہام کے مطابق 4 / اپریل 1905 ء کو ایک خطرناک زلزلہ آیا جوز لزلہ کانگڑہ کے نام سے مشہور ہے۔اس سے کانگڑہ کے علاقہ میں ہزاروں مکان گر گئے اور سخت تباہی ہوئی۔وفات کے متعلق الہامات اور خلافت کی پیشگوئی: 1905ء کے آخر میں حضور کو متواتر ایسے الہامات ہوئے جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آرہا ہے۔چنانچہ آپ کو دو تین گھونٹ پانی دکھایا گیا اور ساتھ ہی الہام ہوا کہ ” آب زندگی یعنی دو تین سال ہی اب زندگی کے باقی ہیں پھر الہام ہوا۔قَرُبَ اَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ ، یعنی تیری وفات کا وقت قریب ہے۔اس پر حضور نے اپنی جماعت کو نصیحتیں کرنے کے لئے ایک رسالہ ”الوصیت“