جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 41
41 کہ اگر ایک دفعہ ہی آپ اپنے احمدی ہونے سے انکار کر دیں تو آپ بچ سکتے ہیں۔مگر شہید مرحوم نے فرمایا۔میری اور میرے بال بچوں کی بھلا کیا حقیقت ہے۔میں انہیں بچانے کی خاطر اپنے ایمان کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا۔اس پر آپ کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا گیا اور اوپر سے آپ پر پتھروں کی بوچھاڑ شروع کر دی گئی۔یہاں تک حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید مرحوم کی پاک روح اپنے مولا کے پاس جا پچی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضرت مسیح موعود نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: - ”اے عبد اللطیف ! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق (سچائی) کا نمونہ دکھایا یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی نظیر نہیں ملے گی۔ہائے! اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بے دردی سے قتل کر کے اپنے تیں تباہ کر لیا۔“ ( تذكرة الشهادتين ) جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے تحریر فرمایا ہے اس ظلم عظیم کی وجہ سے واقعی امیر حبیب اللہ خان اور اس کا خاندان تباہ ہو گیا۔چنانچہ امیر حبیب اللہ خان اور اس کا لڑکا نصر اللہ خان دونوں قتل کئے گئے اور بعد میں یہ خاندان ہمیشہ کے لئے حکومت سے محروم ہو کر جلا وطنی کی زندگی گزارنے لگا۔شہید مرحوم کی سنگساری کے دوسرے ہی دن کا بل میں سخت ہیضہ پھوٹ پڑا جس کی وجہ سے شاہی خاندان کے اور دیگر کئی ہزار اشخاص ہلاک ہو گئے۔