جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 30
30 کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو گیا۔اس مباحثہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے اتنی کامیابی بخشی کہ مباحثہ کے دوران ہی کئی لوگوں نے بیعت کرنے کا اور احمدی جماعت میں داخل ہونے اعلان کر دیا۔اس مباحثہ کے دوران عجیب واقعہ ہوا۔عیسائی کچھ ٹولے لنگڑے اور اندھے اکٹھے کر کے لے آئے اور یہ کہنے لگے کہ ہمارے یسوع مسیح تو ٹولے لنگڑے اور اندھوں کو اچھا کیا کرتے تھے اگر آپ مسیح موعود ہونے کے دعوئی میں بچے ہیں تو آپ بھی ان کو اچھا کر کے دکھائیں۔عیسائی اپنے دل میں بہت خوش تھے کہ آج ہم نے (حضرت) مرزا صاحب کو شرمندہ کرنے کے لئے خوب ترکیب نکالی ہے لیکن جب عیسائیوں نے یہ بات کہہ کر ان اندھوں اور لنگڑوں کو پیش کیا تو حضرت مسیح موعود نے ان کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو آپ کی انجیل کہتی ہے کہ حضرت مسیح سچ سچ کے اندھے، ٹولے اور لنگڑے لوگوں کو ہاتھ لگا کر ٹھیک کر دیا کرتے تھے ہمارا قرآن مجید تو ہرگز یہ نہیں کہتا اور نہ ہم اس کے قائل ہیں البتہ آپ کی انجیل میں یہ بھی لکھا ہے کہ اے عیسائیو! اگر تم میں ذرہ بھر بھی ایمان ہوگا تو تم اس سے بھی بڑھ کر عجیب عجیب کام کر سکو گے۔سو ہم ان مریضوں کو تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انجیل کے کہنے کے مطابق اگر ذرہ بھر بھی ایمان تمہارے اندر ہے تو ان مریضوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں اچھا کر دو۔اگر تم نے اچھا کر دیا تو ہم تمہیں سچا سمجھیں گے ورنہ دنیا سمجھ لے گی کہ خود تمہاری انجیل کے قول کے مطابق تم میں اب ذرہ بھر بھی ایمان موجود نہیں ہے۔جب حضرت مسیح موعود نے یہ جواب دیا تو عیسائی شرمندہ ہو کر رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔گویا انہوں نے تو حضور کو زک پہنچانے کے لئے یہ چال چلی تھی لیکن یہ الٹ کر انہی پر پڑی اور اُن کے لئے ہی شرمندگی کا موجب بن گئی۔