جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 104
104 بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ یہ الہام پہلی بار خلافت ثالثہ کے دور میں پورا ہوا۔چنانچہ افریقہ کے ملک گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے وہاں کے ایک احمدی مسٹر سنگھیٹے کو وہاں کا گورنر جنرل بنا دیا۔گورنر جنرل ملک کا سب سے بڑا حاکم ہوتا ہے۔مسٹر سنکھیے پہلے وہاں کی جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ تھے۔جب آپ گورنر جنرل بنے تو آپ نے کئی دن تک دعائیں کرنے کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں درخواست کی کہ حضرت مسیح موعود کے کپڑوں سے میں برکت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے حضرت مسیح موعود کا کوئی کپڑا تبرک کے طور پر مجھے عنایت فرمائیں۔چنانچہ حضور نے ربوہ سے وہ کپڑا انہیں بھجوا دیا جسے پا کر وہ بہت خوش ہوئے۔اس طرح خلافت ثالثہ میں پہلی بار حضرت مسیح موعود کا یہ الہام پورا ہو گیا کہ : - ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ کوئی فرد بھوکا نہ رہے: حضور نے یہ بھی تحریک فرمائی ہے کہ ہر جگہ اور ہر مقام پر ایسا انتظام کیا جائے کہ جماعت کا کوئی فرد کبھی بھوکا نہ رہے اور جماعت کے تمام افراد ہر قسم کی غیر اسلامی رسموں سے بچیں۔حضور کی یہ تحریک بھی جماعت میں کامیاب ہو رہی ہے۔الحمد للہ ! سفر یورپ اور کوپن ہیگن میں بیت کا افتتاح: حضور نے 1967ء میں یورپ کا جو سفر اختیار فرمایا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی پہلے سے دی گئی بشارت کے مطابق بہت ہی اہم اور بابرکت ثابت ہوا۔اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت کے نظارے ہمیں نظر آئے۔حضور