جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 84
84 ایمان، عبادت گزاری، سخاوت، مہمان نوازی، غرباء پروری، صفائی پسندی، صبر وقتل اور اللہ تعالیٰ پر ہر حالت میں کامل تو کل آپ کی خاص خوبیاں تھیں۔اپنی اولاد کی آپ نے بہترین پرورش اور تربیت فرمائی۔اور جماعت کے ہر فرد کے ساتھ آپ اتنی ہمدردی فرماتی تھیں کہ ہر کوئی یہی سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ تو آپ کا خاص تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ جنت میں آپ کو بلند درجات دے اور ہم سب کو آپ کی خوبیوں کا وارث بنائے۔آمین! جماعت کے خلاف فتنے : حضور کے زمانے میں جماعت احمدیہ کے خلاف کئی فتنے ظاہر ہوئے۔ان میں سے بعض فتنے تو اتنے خطرناک تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ بس اب نعوذ باللہ احمدیت دنیا سے مٹ جائے گی۔مگر ہر فتنے کا حضور نے انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا۔اور پہلے ہی یہ اعلان کر دیا کہ یہ فتنے نا کام ہو جائیں گے۔احمدیت کی کشتی خدا کے فضل سے آگے ہی آگے بڑھتی جائے گی چنانچہ واقعی حضور کی پیشگوئی پوری ہوتی رہی ہر فتنہ نا کام ہوا اور احمدیت ترقی ہی کرتی چلی گئی۔بعض فتنوں کا ذیل میں مختصر اذکر کیا جاتا ہے۔(1 1934ء میں احراریوں نے ملک میں وسیع پیمانے پر فتنہ کھڑا کیا۔مسلمانوں میں جماعت کے متعلق سخت غلط فہمیاں پھیلا دیں اُس وقت کی انگریزی حکومت کے بعض اعلیٰ افسر بھی اور خود گورنر پنجاب بھی جماعت کے خلاف ہو کر احراریوں کی مدد کرنے لگے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارا ملک اب احراریوں کے ساتھ ہے۔ان لوگوں نے قادیان میں جمع ہو کر جلسے کئے اور احمدیت کو مٹا دینے کا دعوی لے کر کھڑے ہوئے۔عین اس زمانہ میں جبکہ یہ فتنہ زوروں پر تھا۔حضرت اقدس نے اپنے خطبہ میں خدا تعالیٰ کے اشارہ سے یہ اعلان فرمایا کہ:-