جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 72 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 72

72 پہنچایا گیا۔پھر مغربی افریقہ میں ایک اور بزرگ صحابی حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر تشریف لے گئے ان بزرگوں کے ذریعہ کثرت کے ساتھ لوگ جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے اور خدا نے انہیں غیر معمولی کامیابی بخشی۔ان کے واپس آ جانے پر دوسرے مربیان کرام وہاں جاتے رہے۔چنانچہ اب ان تینوں ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں احمدی جماعتیں موجود ہیں۔افریقہ اور ماریشس میں تو احمدیوں کی اپنی کئی بیوت الذکر اور اسکول بھی قائم ہیں۔اُس وقت مندرجہ ذیل ملکوں میں احمد یہ مشن موجود تھے جو کہ بہت کامیابی سے دین حق کی خدمت کر رہے تھے :- امریکہ : ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ٹرینیڈاڈ، برٹش گی آنا، کینیڈا پ : انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ ، سپین، ڈنمارک، جرمنی ، سویڈن، ناروے مغربی افریقہ : نائجیریا، غانا، سیرالیون، لائبیریا، گیمبیا زیمبیا، آئیوری کوسٹ، ٹوگولینڈ مشرقی افریقہ : کینیا، ٹانگانیکا، یوگنڈا، ماریشس ان ممالک کے علاوہ جنوبی افریقہ فلسطین، لبنان ، شام، عدن ،مصر، کویت، عراق، بحرین ، دوبئی، برما، سیلون، ہانگ کانگ، سنگاپور، جاپان، ملائشیا، شمالی بورنیو، فلپائن اور انڈونیشیا میں بھی ہماری جماعتیں قائم ہوئیں۔بالخصوص انڈونیشیا میں تو احمدیت کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ایران، حبشہ، سومالی لینڈ، کانگو، ہنگری، پولینڈ، فلپائن اور ارجنٹائن میں بھی باقاعدہ مبلغین بھجوا کر دین حق کا پیغام لوگوں تک پہنچایا گیا۔بيوت الذكر : واشنگٹن (امریکہ)، ہیمبرگ، فرینکفرٹ (مغربی جرمنی ) زیورک (سوئیٹزرلینڈ)، ہیگ (ہالینڈ)، ڈنمارک، سویڈن ، مغربی اور مشرقی افریقہ کے کئی ممالک میں ہماری