جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 62 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 62

62 حضرت مسیح موعود کے اس عاشق صادق کو جو اپنے اندر بے نظیر خوبیاں رکھتا تھا اور عمر بھر دین کی خدمت کرتا رہا۔مقبرہ بہشتی قادیان میں حضرت مسیح موعود کے مزار کے پہلو میں دفن کر دیا۔حضرت خلیفہ اول کا مقام : حضرت مولاناحکیم نورالدین صاحب خلیفہ المسیح الاول بہت بزرگ انسان تھے۔آپ کو سب سے پہلے بیعت کرنے اور پھر ہر حالت میں حضرت مسیح موعود کا ساتھ دینے کی توفیق ملی۔خدا اور رسول کی محبت کے علاوہ انہیں قرآن مجید سے خاص عشق تھا۔بیماری ہو یا صحت ہو۔ہر حالت میں قرآن مجید کا ذکر اور اس کا درس ہی ان کی روح کی غذا تھی۔حضرت مسیح موعود کے ہر حکم کی پوری اطاعت کرتے تھے۔جب حضور کی طرف سے کوئی بلاوا آتا تو جس حالت میں بھی ہوتے فوراً بھاگ کر حضور کی خدمت میں پہنچنے کی کوشش کرتے حتی کہ جوتی سنبھالنے اور پگڑی پہنے کا بھی انہیں خیال نہ رہتا۔ایک دفعہ حضور دہلی میں تھے وہاں سے حضور کا پیغام حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں ملا کہ آپ فوراً دہلی آجائیں۔حضرت مولوی صاحب اس وقت اپنے مطب میں بیٹھے تھے۔جب پیغام ملا تو وہیں سے اور اُسی حالت میں روانہ ہو گئے۔نہ سفر کے لئے کوئی سامان لیا اور نہ کرایہ کا ہی انتظام کیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ گھر جا کر سامان بھی نہ لیں اور اتنے لمبے سفر پر خالی ہاتھ روانہ ہو جائیں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔جب حضور کا حکم کے ہے کہ فوراً آجاؤ تو میں ایک منٹ بھی یہاں ٹھہر نا گناہ سمجھتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ جب آپ گاڑی پر روانہ ہونے کے لئے بٹالہ کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچے تو ایک امیر آدمی جو بیمار تھا علاج کے لئے حاضر ہو گیا اس