جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 56 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 56

56 ہیں۔یہاں رہیں۔حضرت مولوی صاحب نے سمجھا کہ دو چار روز اور ٹھہر لیتا ہوں۔ایک ہفتہ بعد حضور نے فرمایا آپ اکیلے یہاں رہتے ہیں اپنی بیویوں کو بھی یہیں منگوالیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے دونوں بیویوں کو بلا لیا۔پھر ایک دن حضور نے فرمایا۔آپ کو کتابوں کا شوق ہے اپنا کتب خانہ بھی یہیں منگوا لیں۔چنانچہ کتب خانہ بھی بھیرہ سے قادیان آ گیا۔چند دنوں کے بعد حضور نے فرمایا۔مولوی صاحب ! اب آپ وطن کا خیال چھوڑ دیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے وطن کا خیال ایسے چھوڑ دیا کہ کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا۔“ قادیان میں ہجرت کے بعد کئی لوگوں نے آپ کو لاہور یا امرتسر میں جا کر شفاخانہ کھولنے کی تحریک کی لیکن آپ نے اپنے آقا کے قدموں میں ہی رہنا پسند کیا۔یہیں پر دن رات دین کی خدمت کرنے میں مصروف رہے اور ہر وقت حضرت مسیح موعود کی ہدایت اور حکم کی تعمیل کرنے کے لئے تیار رہتے۔مریضوں کو دیکھتے۔قرآن و حدیث کا درس دیتے نمازیں پڑھاتے۔وعظ ونصیحت کرتے۔حضور کی کتب کے پروف پڑھنے اور حوالے نکالنے کا کام کرتے تھے۔جب کالج جاری ہوا تو اس میں عربی پڑھاتے تھے۔جب صدر انجمن احمد یہ قائم ہوگئی تو حضرت مسیح موعود نے آپ کو اس کا پریذیڈنٹ مقرر فرما دیا۔پھر غرباء کی امداد اور ہمدردی کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے۔غرض قادیان آکر حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی دین کے لئے بالکل وقف کر دی۔صبح سے شام تک اسی میں مصروف رہتے۔پہلے حضرت مسیح موعود کے مکانات کے قریب ہی اپنا کچا مکان تعمیر کرا کے اس میں رہائش اختیار کر لی۔بیماروں کے علاج سے جو آمدنی ہوتی اس کا بھی زیادہ تر حصہ چندہ کے طور پر حضور کی خدمت میں پیش کر