جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ

by Other Authors

Page 5 of 141

جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 5

5 جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ کے متعلق مؤقر آراء حضرت سیدہ اُمّم متین مریم صدیقہ صاحبہ غفراللہ ھا ( سابق صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ) جماعت میں جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر موضوع پر کثیر تعداد میں لٹریچر شائع ہو رہا ہے وہاں بچوں اور بچیوں کی دینی و علمی معلومات وسیع کرنے کے لئے لٹریچر کی کمی ہے حالانکہ بچپن کی عمر میں ضرورت ہے کہ دین سے روشناس کروایا جائے ، اپنے مذہب کے اصول معلوم ہوں ، روایات کا علیم ہو، تا اُن کی روشنی میں بچے اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔تاریخ احمدیت پر جتنی کتب اس وقت تک لکھی گئی ہیں وہ سب ایسی ہیں کہ کہ جن سے ایک تعلیم یافتہ شخص ہی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔کم تعلیم یافتہ خواتین یا چھوٹے بچوں کے لئے ضرورت تھی کہ ایک ہلکی پھلکی کتاب ہو جس کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود اور آپ کے خلفاء اور اُن کی تمام تحریکات اور واقعات کا علم ہو سکے۔سو الحمد للہ شیخ خورشید احمد صاحب ( نائب ایڈیٹرالفضل ریٹائرڈ) نے بچوں کے لئے اس موضوع پر کتاب لکھ کر میری اس دیر بینہ خواہش کو پورا کیا۔اللہ انہیں جزائے خیر دے۔یہ کتاب ناصرات الاحمدیہ کے آئندہ امتحانات کے لئے بھی تجویز کی گئی ہے اس لئے تمام لجنات کتاب منگوائیں اور کوشش کریں کہ بڑے گروپ کی ہر بچی اس امتحان میں شامل ہو اور احمدیت کی تاریخ سے واقف ہو۔صرف ایک دو کتابوں کا لکھا جانا احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے کافی نہیں۔میں امید کرتی ہوں کہ احباب جماعت اس قسم کی کتابوں کے لکھنے کی طرف مزید توجہ فرمائیں گے تاہمارے بچے ان کو پڑھ کر دین حق کے شیدائی بنیں۔آمین ثم آمین