جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 49
49 آنحضرت ملالہ کے ساتھ بے نظیر محبت رکھتے تھے۔-2 عبادت الہی میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔جب بظاہر آپ دنیوی کام بھی کرتے تو زیر لب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے رہتے دراصل آپ کی ساری زندگی ہی مجسم عبادت الہی تھی۔-3 تقوی ( پر ہیز گاری) راستبازی ( سچائی) اور قرآن کریم کے احکامات اور آنحضرت صل اللہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا ہمیشہ خاص خیال رکھتے تھے۔زندگی بہت ہی سادہ اور ہر قسم کے تکلف سے پاک تھی۔مشکل سے مشکل حالات کا بھی صبر، استقلال اور بہادری کے ساتھ مقابلہ -4 -5 کرتے تھے۔-6 محنت کرنے کے خاص طور پر عادی تھی۔خدا تعالیٰ نے جو کام حضور کے سپرد کیا تھا دن رات اسی میں مصروف رہتے تھے۔-7 بیوی بچوں اور دوستوں کے ساتھ حتی کہ اپنے دشمنوں سے بھی بڑی ہی محبت، شفقت اور ہمدردی کا سلوک فرماتے تھے اور ہمیشہ اُن کے جذبات کا خیال رکھتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔مہمان نوازی بھی آپ کی ایک خاص صفت تھی۔مہمانوں کے آرام کا بہت -8 ہی خیال رکھتے تھے۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے حضور کی عادات اور خصائل کا خلاصہ بڑے ہی پیارے مگر جامع انداز سے بیان کیا ہے آپ تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود اپنے اخلاق میں کامل تھے۔یعنی آپ نہایت رؤف۔رحیم تھے۔سخی تھے۔مہمان نواز تھے۔ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھ جاتے تھے آپ شیر کر کی طرح