جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 44
44 اس کے علاوہ یہ شرط بھی رکھی کے وہ دسواں حصہ اپنی جائیداد کا اور آمد کا اشاعت دین حق کے لئے چندہ کے طور پر دیتا رہے گا لیکن حضور نے تحریر فرمایا کہ اگر کوئی شخص چندہ دینے کی بالکل طاقت نہ رکھتا ہومگر بہت نیک اور مخلص ہو تو اسے بھی اس میں دفن کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔اسی انتظام کے ماتحت قادیان اور ربوہ میں مقبرہ بہشتی قائم ہے جس میں مندرجہ بالا شرطوں کی پابندی کرنے والے احمدیوں کو وفات کے بعد دفن کیا جاتا ہے اور ہر احمدی کا یہ ایمان ہے کہ اس میں وہی احمدی دفن ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہشتی ہے۔رساله تشحید الا ذبان یکم مارچ 1906ء کوحضور کی اجازت سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی نے ایک اُردو رسالہ تشحیذ الاذہان کے نام سے احمدی نو جوانوں کی تربیت کے لئے جاری کیا۔ڈاکٹر ڈوٹی کی ہلاکت: امریکہ میں ایک شخص ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی کے نام سے مشہور تھا اُس نے نبی ہونے اور عیسائیت کو پھیلانے کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ میں اسلام کو تباہ و برباد کر دوں گا حضرت نبی کریم صل اللہ کی بھی اس نے سخت تو ہین کی اور حضور کی شان میں گستاخیاں کیں۔حضرت مسیح موعود کو اس کا علم ہوا تو حضور نے اس کوللکارا اور لکھا کہ :- ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ