جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 35
35 حضرت مسیح موعود نے اسے بہت سمجھایا اور کوشش کی کہ وہ اپنی گستاخیوں کو ترک کر کے شریفانہ رویہ اختیار کرے لیکن وہ باز نہ آیا اور اپنی شوخیوں میں بڑھتا ہی چلا گیا۔آخر اُس کی انہی شوخیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر بھڑ کا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو الہام کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ یہ شخص ہلاک کیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے 20 فروری 1893ء کو یہ اعلان کیا کہ : - چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔“ ( آئینہ کمالات اسلام ) ایک اور الہام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ پنڈت لیکھرام عید کے دن کے نزدیک ہلاک ہو جائے گا۔(کرامات الصادقين ) جب یہ الہامات شائع ہوئے تو بجائے اس کے کہ پنڈت لیکھرام اپنی شوخیوں سے باز آجاتا وہ اپنی شرارتوں میں اور بھی تیز ہو گیا اور بطور جواب اپنی طرف سے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ پیشگوئی شائع کر دی کہ :- ر شخص تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا۔۔66 اور اس کی ذریت (اولاد) میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔“ تکذیب براہین احمدیہ ) آخر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔کیونکہ لیکھر ام کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔حضرت مسیح موعود نہ صرف اس کی مقررہ میعاد میں زندہ اور سلامت رہے بلکہ آپ کی اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی اور اس کے بالمقابل حضور نے جو پیشگوئی کی تھی وہ لفظ بلفظ پوری ہوئی۔اس پیشگوئی کے عین