جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ — Page 34
34 مضمون پڑھا گیا تو تمام حاضرین جلسہ نے یہ اقرار اور اعتراف کیا کہ واقعی یہ مضمون باقی سب مضمونوں سے بالا رہا ہے بعد میں جب اخباروں میں اس جلسہ کی خبر شائع ہوئی تو اس میں بھی یہ اعتراف کیا گیا تھا کہ ( حضرت ) مرزا صاحب کا مضمون سب سے اچھا اور سب سے اعلیٰ تھا۔حضور کا یہ مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔مقدمہ ڈاکٹر مارٹن کلارک : جب بعض پادریوں نے دیکھا کہ آپ دن بدن کامیاب ہو رہے ہیں اور آپ کے دلائل کا عیسائیت مقابلہ نہیں کر سکتی تو وہ اوچھے اور ذلیل ہتھیاروں پر اُتر آئے۔چنانچہ انہوں نے 1897ء میں ایک سازش کر کے حضور پر اقدام قتل کا مقدمہ کر دیا۔یہ مقدمہ ایک مشہور پادری ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف سے انگریز ڈپٹی کمشنر کپتان ڈگلس کی عدالت میں دائر کیا گیا اور الزام یہ لگایا گیا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک شخص عبدالحمید نامی کے ذریعے پادری ہنری مارٹن کلارک کو قتل کرانے کی کوشش کی ہے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس مقدمہ میں بھی آپ کی مدد فرمائی اور نہ صرف یہ کہ عدالت نے باوجود مخالفین کی پوری کوشش کے آپ کو گرفتار ہی نہ کیا بلکہ تحقیقات کے بعد آپ کو باعزت بری کر دیا۔اس مقدمہ میں حضور کے مخالف مسلمانوں اور ہندوؤں نے بھی عیسائی پادریوں کی مدد کی اور حضور کو سزا دلانے کی پوری کوشش کی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ناکام و نامرا در کھا۔پنڈت لیکھرام کے قتل کی پیشگوئی: پنڈت لیکھرام ہندوؤں کے فرقہ آریہ سماج سے تعلق رکھتا تھا۔وہ اسلام کا سخت دشمن تھا اور رسول اللہ صل اللہ کی شان میں بہت گستاخیاں کیا کرتا تھا۔