تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 76 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 76

جلد اوّل 60 تاریخ احمدیت بھارت کرایہ لے جائے گا لیکن اگر اپنے کانوائے کا استعمال کیا جائے تو اس کے لئے مناسب کرایہ لگے گا مگر غرباء کو سہولت دی جائے گی۔صدر صاحبان اپنے اپنے محلہ میں یہ بھی بتادیں کہ ایسے بچوں عورتوں مردوں کی فہرست شیخ عبدالحمید صاحب عاجز بی، اے ( سابق ناظر بیت المال قادیان ، ناقل ) کی نگرانی میں تیار ہوتی ہے۔پس تمام درخواستیں ان کے پاس جانی چاہئیں جو بعد منظوری نظارت باری باری لوگوں کو موقعہ دیں گے۔صدر صاحبان کو یہ بھی چاہئیے کہ اس کام میں گھبراہٹ کا رنگ پیدا نہ ہونے دیں بلکہ وقار اور انتظام کے ماتحت سارا کام سرانجام پائے۔(13) انخلاء آبادی کا نقشہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے الفاظ میں انخلاء آبادی کا یہ عظیم معرکہ سر کرنے کے لئے کتنی زبردست اور فقید المثال جدو جہد سے کام لینا پڑا۔اس کا نقشہ حضرت قمرالانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب سے بڑھ کر بھلا کون کھینچ سکے گا۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔”ہماری آنکھیں دیکھ رہی تھیں کہ قادیان اور اس کے ماحول میں فتنہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔اور ضلع گورداسپور کے ایک ایک مسلمان گاؤں کو خالی یا تباہ کر کے قادیان کے اردگرد خطرہ کا دائرہ روز بروز تنگ کیا جارہا ہے۔اور دوسری طرف قریباً پچاس ہزار بیرونی پناہ گزینوں نے قادیان میں جمع ہو کر ہماری مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ہم نے دوستوں کے مشورہ اور حضرت صاحب کی اصولی ہدایت کے ماتحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو عورتوں اور بچوں کو جلد از جلد قادیان سے باہر بھجوادیا جائے۔اور اس کے لئے ہم مجنونانہ جد و جہد کے ساتھ دن رات لگے ہوئے تھے۔(4-14) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل ایک مرکزی کمیٹی مقرر فرما دی تھی : حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب۔مولا نا جلال الدین صاحب شمس۔مولوی ابوالعطاء صاحب، مرزا عبدالحق صاحب۔یہ کمیٹی 18 ستمبر کو قائم ہوئی اور اسی روز اس کا مشورہ سید نا حضرت امیر المومنین کے حضور بھجوادیا گیا۔اور اس کے لئے دن رات مجنونانہ کوششیں کی جانے لگیں۔(B-14)