تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 27 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 27

جلداول 26 تاریخ احمدیت بھارت آکر کوئی غلطی کر بیٹھے۔اور اگر کوئی شخص ایسا کرے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوگا۔جماعت اس کے اس فعل سے بیزار ہوگی۔ہماری جماعت کی انتہائی کوشش یہی ہوگی کہ قادیان میں مکمل طور پر امن رہے۔لیکن اگر کوئی شخص میری ہدایات کے باوجود غلطی کرتا ہے تو یہ اس کی جزوی اور انفرادی غلطی ہوگی۔جماعت اس سے بری الذمہ ہوگی۔ہاں چونکہ میں امن کی تعلیم دیتا ہوں، یہ نہیں ہو سکتا کہ جماعت کی اکثریت فساد میں مبتلا ہو جائے لیکن اس کے ساتھ ہی جو باقی پندرہ فی صدی لوگ ہیں ان کا بھی فرض ہے کہ وہ ارد گرد کے لوگوں کو سمجھا ئیں کہ وہ فساد نہ کریں۔اور اگر ان تمام باتوں کے باوجود خدانخواستہ باہر کے لوگ کوئی فساد کھڑا کریں تو اس فساد کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ دوسروں پر ہوگی۔جو شخص کسی کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کے منہ پر تھپڑ مارا جائے۔مگر ظالم کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف ظلم بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ میرے منہ پر تھپڑ نہ مارا جائے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا تو کرتے ہیں کہ وہ ہمیں فساد سے محفوظ رکھے لیکن اگر خدانخواستہ فساد ہو گیا تو شرعاً اور اخلاقاً جماعت احمدیہ کا حق ہوگا کہ ظالم کے منہ پر اس طرح تھپڑ مارے جیسا کہ اس نے مارا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض مواقع پر ہم نے امن کو قائم رکھنے کے لئے بہت زیادہ نرمی اختیار کی ہے۔احرار کی شورش کے ایام میں ہی میں نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کے باپ یا بھائی کو مارا جا رہا ہے تو وہ بھی چپ کر کے گزر جائے لیکن اسلامی قانون یہ تقاضا نہیں کرتا کہ ہر موقع پر تم ایک ہی طریق اختیار کرو۔نہ ہی اسلامی تمدن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر موقع پر خاموشی اختیار کی جائے۔بلکہ اسلام یہ کہتا ہے کہ مناسب حال جو موقع ہو ویسا کرو۔پس میرا فرض ہے کہ میں قادیان میں امن قائم رکھوں۔لیکن اگر دشمن کی طرف سے حملہ ہو اور جماعت اس کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرے تو اس کا ذمہ دار دشمن ہوگا نہ جماعت احمدیہ۔اور اس فساد کی ذمہ داری اس پر ہوگی نہ کہ جماعت احمدیہ پر۔رسول کریم این سیستم فرماتے ہیں الْبَادِی أَظْلَمُ اصل ظالم وہ ہوتا ہے جو فساد کی ابتداء کرتا ہے۔پس گو ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے صلح اور امن کو قائم رکھا جائے، اور ہم اردگرد کے علاقہ میں بھی یہی کوشش کر رہے ہیں، اور دور ونزدیک کے سب لوگوں کو سمجھارہے ہیں کہ کوئی فریق ابتداء نہ کرے۔لیکن اس امر کو ہندو سکھ سب کو یادرکھنا چاہیئے کہ اگر فساد ہوا تو صرف ہمارے لئے نہیں ہوگا بلکہ سب کے لئے ہوگا اور سب کو مل کر امن قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود ہم وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ فساد نہیں ہوگا اور ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی