تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 26
تاریخ احمدیت بھارت 25 25 جلداول جو رتبہ مجھے عطا کیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے سب سے پہلا اور آخری ذمہ دار میں ہی ہوں۔اور جماعت کے بوجھ اٹھانے کا حق میرا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں ذوالقرنین کے متعلق کہا گیا ہے کہ اس نے کہا تھا أتُونِي زُبُرَ الْحَدِيدِ یعنی لوہے کے ٹکڑے میرے پاس لاؤ وہی بات میں نے بھی پیش کر دی ہے کہ تم اپنی جائیدادوں کا ایک فیصدی قربانی میں پیش کر دو۔وہ خود جماعت کی حفاظت کے سامان پیدا کر دیگا۔اس وقت تمہارا کام صرف زبر الحدید پیش کرنا ہے ورنہ اصل اور اہم کام تو خدا تعالیٰ اور اس کے مقرر کردہ افراد نے ہی کرنا ہے بلکہ افراد نے بھی کیا کرنا ہے خدا نے خود ہی کرنا ہے۔جماعت تو ان مصائب اور مشکلات کے مقابلہ کی طاقت ہی نہیں رکھتی کیونکہ ان کو دور کرنا انسانی طاقت سے بالا ہے۔پس سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی ہستی ان کو دور کر ہی نہیں سکتی۔لیکن جو چھوٹا سا کام ہماری جماعت کے ذمہ ہے اگر جماعت اس میں بھی سستی اور غفلت سے کام لے تو یہ نہایت ہی افسوسناک امر ہوگا“۔(13) قادیان کے غیر از جماعت افراد کو حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے حفاظت کی یقین دہانی 1947ء کے اخبارات سے علم ہوتا ہے کہ جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا اعلان کر دیا تو ملک میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ہر ایک اپنے مستقبل کو تاریک و مہم دیکھ رہا تھا۔بعض مقامات پر ایک پڑوسی اپنے پڑوسی سے خطرہ محسوس کر رہا تھا۔اس پر مستزاد وہ افواہیں تھیں جو حالات کو مزید تشویشناک بناتی چلی جا رہی تھیں۔قادیان اور اس کے نواحی علاقوں میں جماعت احمدیہ کی اکثریت تھی۔اور یہاں کی غیر مسلم آبادی احمدیوں سے کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کرتی تھی۔مگر افواہوں نے ان کو بھی خوفزدہ کر دیا اور انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔اس پر حضور نے انہیں مکمل حفاظت کا یقین دلایا۔اور مزید برآں 23 مئی 1947 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ:۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیان کے امن کی ذمہ داری در حقیقت مجھ پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ قادیان کی 85 فیصدی آبادی احمدی ہے یعنی انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ہر حکم میں میری اطاعت کرینگے۔ان حالات میں قادیان کے امن کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں ایک انسان ہوں۔غیب کا علم نہیں رکھتا۔یہ ہو سکتا ہے کہ جماعت کا کوئی فرد کسی وقت اشتعال میں