تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 356 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 356

تاریخ احمدیت بھارت 325 جلد اوّل دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ہر مسجد میں ہر نماز کے بعد کوئی نہ کوئی درس ضرور ہوتا ہے۔اور اس طرح قرآن حدیث اور سلسلہ کے لٹریچر کی ترویج کا ایک ایسا سلسلہ جاری ہے جس کی بنیاد صحیح اور نیک نیت پر مشوق اور لذت کے ساتھ اٹھائی جا رہی ہے۔عام علوم کے درس ان کے علاوہ ہیں۔اور روزانہ وقار عمل تعمیر و مرمت ، صفائی ولپائی مکانات ، مساجد اور مقابر راستے اور کو چہا بلکہ نالیاں تک۔اس کے علاوہ خدمت خلق بڑی بشاشت اور خندہ پیشانی سے کی جاتی ہے۔جس میں ادنیٰ سے ادنی کام کو کرنے میں تکلیف ، ہتک یا کبیدگی کی بجائے بشاشت ولذت محسوس کی جاتی ہے۔گیہوں کی بوریاں آٹے کے بھاری تھیلے اور سامان کے بھاری صندوق ، بکس اور گٹھے یہ سفید پوش، خوش وضع اور شکیلے نو جوان جس بے تکلفی سے ادھر سے اُدھر گلی کو چوں میں جہاں اپنے اور پرائے مرد اور عورت اور بچے ان کو دیکھتے ہیں لئے پھرتے ہیں۔قابل تحسین و صد آفرین ہے اور ان چیزوں کا میرے دل پر اتنا گہرا اثر ہے جو بیان سے بھی باہر ہے۔یہ انقلاب تغیر اور پاک تبدیلی دیکھ کر میرے آقا بے ساختہ زبان پہ جاری ہوا۔ہر بلا کیں قوم راحق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔خدمت خلق کے سلسلہ میں ہمارا ہسپتال جو خدمات بجالا رہا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔بلا تمیز و تفریق مذہب و ملت عورت۔مرد اور بچے بے شمار روزانہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور عزیز مکرم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب جو ان دنوں انچارج اور چند نو جوان ان کی زیر قیادت ان خدمات پر مامور ہیں۔نہایت توجہ ، ہمدردی اور محبت نرمی سے مفوضہ خدمات بجالا رہے ہیں۔جس کے نتیجہ میں رجوع خلق میں روز افزوں ترقی واضافہ نظر آتا ہے۔اور اب ڈاکٹر عطرالدین صاحب کے آجانے پر ایک وٹرنری ہسپتال بھی جاری کر دیا گیا ہے۔مقبرہ بہشتی کی ہر قبر بلکہ ہر قبر کے ایک ایک کو نہ اور گوشہ میں روشوں اور نالیوں اور پودوں اور درختوں کی جو خدمت اس محصور خلق خدا نے کر دکھائی ہے۔۔۔۔قابل رشک ہے۔جس کو دیکھ کر میں ششدر ہو گیا۔اور مرحبا صد آفرین کی صدا از خود دل کی گہرائیوں سے بلند ہونے لگی۔مقبرہ کے گرد چار دیواری جس محنت اور جانفشانی سے ان ہونہاروں نے تیار کی وہ بے مثال ہے۔جنوبی جانب، جنوب مشرقی