تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 314 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 314

تاریخ احمدیت بھارت 283 جلد اوّل رکھنے کی تمنا پوری کرنے کی خاطر انہوں نے اشارہ کیا کہ تم نکل جاؤ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ اس حملے کے باوجود اس گھیرے سے باہر آگئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچ گئے۔مگر اثر یہ تھا کہ بدحواس ہو چکے تھے، کوئی ہوش نہیں رہی ، میں کون ہوں ، کہاں سے آیا ہوں ، کیا ہوا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مرحوم شہید باپ کی خواہش کو پورا کرنا تھا اور نسل کو جاری رکھنا تھا چنانچہ کچھ دوستوں کو ان کا علم ہوا یعنی بہکتے بہکتے پھرتے ہوئے بعض احمدی دوستوں کی نظر میں آگئے اور وہ ان کو پکڑ کے قادیان لے آئے اور جہاں تک شہداء کا تعلق ہے کچھ عرصہ کے بعد احباب ان کے اشارے پر وہاں پہنچے اور ان کی لاشوں کو دفن کر دیا۔مکرم عبد الرحمن صاحب شہید اب آخری ذکر مکرم عبد الرحمن صاحب شہید کا ہے۔یعنی اس سلسلہ میں جو شہادتیں ہوئی ہیں قادیان میں تقسیم کے وقت ان شہادتوں میں یہ آخری ذکر میں کر رہا ہوں اس کے بعد یہ تذکرہ ابھی لمبا ہے اور بہت دیر تک چلتا رہے گا۔ابھی تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے زمانے کی شہادتوں کا دور ہے بہت عظیم دور ہے۔پھر اس عاجز کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو شہید ہونے کی توفیق بھی دی ان کا بھی ذکر ہوگا تو یہ سلسلہ اللہ بہتر جانتا ہے کب تک چلے گا۔ہو سکتا ہے جلسہ سالانہ تک یہ خطبات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے اور اس کے نتیجہ میں انشاء اللہ تعالیٰ جو معلومات اکٹھی ہوں گی ان کے علاوہ جو شہداء کے خاندان ہیں خصوصاً ان کے دل میں اپنے ماں باپ کی قربانیاں احمدیت کے ساتھ ایک غیر معمولی وابستگی پیدا کر دیں گی، وابستگی ہے تو اس وابستگی کو اور بھی چمکا دیں گی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ ،سلسلہ وار آگے بڑھتا رہے گا اور انگلی صدی تک ان کی یادیں اور شہداء بھی پیدا کرتے رہیں گے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ جو شہداء کے ذکر کا چلا ہے یہ بہت بابرکت ثابت ہوگا۔کیپٹن نور احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن صاحب شہید پیروشاہ کے رہنے والے تھے اور فوج میں حوالدار تھے اور بڑے بہادر تھے۔ہماری ملاقات حفاظت مرکز کے سلسلہ میں قادیان میں ہوئی۔واقعۂ شہادت یہ ہے کہ کیپٹن صاحب موصوف بیان کرتے ہیں کہ ہمیں کسی شخص نے تلونڈی جھنگلاں میں یہ اطلاع دی کہ دھوپ سڑی میں ہم نے کنویں میں تھری ناٹ تھری کی رائفل پھینک دی ہے۔ان حالات میں اس زمانے میں تھری ناٹ تھری کی رائفل کی احمدیوں کے نزدیک بڑی قدر تھی کیونکہ دشمنوں نے تو مشہور کیا تھا