تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 232
تاریخ احمدیت بھارت 203 جلد اول 2 اخبار ”حقیقت“ لکھنو اخبار ”حقیقت“ لکھنو نے اپنی 2 نومبر 1947 ء کی اشاعت میں لکھا: قادیان نرغہ اعداء میں جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان سے جو مصدقہ اطلاعات آرہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ہند کو ان مظالم سے بے خبر رکھا گیا ہے جو وہاں کے باشندوں پر پچھلے چند ہفتوں کے اندر کئے گئے ہیں۔اور آج بھی وہاں۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) پوری طرح مسلط ہے۔خاص قادیان اور گردونواح کے مسلمان ہزار ہا کی تعداد میں بھاگ گئے ہیں۔احمدی جماعت ہمیشہ حکومت کی وفادار رہی ہے اور جماعت کے امام کی طرف سے آج بھی بار بار اس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ جس طرح وہ انگریزی حکومت کی وفادار تھی اسی طرح وہ ہندوستانی یونین کی بھی وفادار رہے گی۔لیکن ان اعلانات کے باوجود قادیان پر۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کا تسلط روز بروز سخت ہوتا جاتا ہے۔حکومت ہند اور مشرقی پنجاب کی حکومت کے ذمہ داروں نے بار بار وعدے کئے کہ وہ قادیان کے حالات کی جلد اصلاح کر دیں گے۔لیکن آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ہمارے خیال میں کسی جماعت کو زبردستی اس کے وطن سے نکالنا کوئی انصاف کی بات نہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت کے اس طرز عمل کو کوئی مہذب انسان پسندیدہ نہیں کہہ سکتا۔حکومت ہند کے لئے یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) سے مرعوب ہو کر ایک ایسی زبر دستی اور نا انصافی کو روا رکھے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔“ (134) برما کے اخبارات برما کے اخبارات میں سے ایک اخبار ”پیغام تھا جو رنگون سے ایس۔ایم علی افسر کے زیر ادارت چھپتا تھا۔اس اخبار نے اپنی 2 نومبر 1947 ء کی اشاعت میں قادیان کے مسلمانوں کے حالات ہندوستان یونین کے مظالم کے خونچکاں واقعات سر ظفر اللہ ان کی کوٹھی بھی لٹ لی گئی کی 9966۔9966 تین سرخیوں کے ساتھ تین کالم کا ایک مبسوط مضمون شائع کیا جو دراصل حضرت سیدنا خلیفہ اسیح الثانی کے قادیان سے متعلق مضامین کا بہترین خلاصہ تھا اور وہ بھی قریباً حضور ہی کے الفاظ میں! (13B)