تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 228 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 228

تاریخ احمدیت بھارت 199 جلد اوّل چالیس احمدیوں کی لاشیں دبائی گئی ہیں۔چلئے ہم ابھی آپ کو وہ چالیس لاشیں دکھانے کے لئے تیار ہیں۔اور اس کے علاوہ ہم اور بھی کئی گڑھے دکھا سکتے ہیں جن میں احمدیوں کو دفن کیا گیا ہے۔اس پر جنرل تھمایا خاموش ہو گئے ( مگر تعصب کا بُرا ہو کہ ریڈیو کے اعلان سے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے جا کر رپورٹ یہی دی ہے کہ قادیان پر معمولی حملہ ہوا۔دونوں طرف کے ساتھ آدمی مارے گئے۔انا لله و انا اليه راجعون) نہایت ذلیل ترین حرکت جو کوئی قوم کر سکتی ہے وہ مردوں کی ہتک ہے۔ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے بعد کیا ہندو اور سکھ قوم یہ نہیں سمجھ سکتی تھی کہ مسلمانوں میں جنازہ کے متعلق کیا احکام ہیں۔وہ کس طرح غسل دیتے، کفن پہناتے جنازہ پڑھتے اور پھر اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں مگر ان اسلامی رسوم کے ادا کرنے سے بھی ہمیں محروم کر دیا گیا اور ہماری لاشوں کو بغیر اس کے کہ ہم ان کا جنازہ پڑھتے گڑھوں میں دبا دیا گیا۔ہمارے آنحضرت سیستم کا طریق تو یہ تھا کہ جنگ احزاب کے موقعہ پر جب کفار کا ایک لیڈر خندق میں گرا اور وہیں مارا گیا تو مکہ والوں نے کئی ہزار روپیہ اس غرض کے لئے پیش کیا کہ اس شخص کی لاش ہمیں دے دی جائے۔رسول کریم ملی ایتم نے جواب دیا کہ ہم نے تمہارا مردہ رکھ کر کیا کرنا ہے تم اس کو اٹھا کر لے جاؤ اور اپنا روپیہ بھی اپنے پاس رکھو۔لیکن یہ وہ گورنمنٹ ہے جو کہتی ہے کہ ہم بڑے ملک کی گورنمنٹ ہیں جو کہتی ہے کہ رعایا ہماری فرمانبردار رہے۔کیا یہی طریقے فرمانبرداری کے حصول کے ہوتے ہیں۔اور کیا یہ طریق حکومت کرنے کے ہوتے ہیں کہ بیگناہ شہریوں کو مارا جائے ، بے قصور شہریوں کو قتل کیا جائے اور پھر ان کی لاشوں کی تذلیل کی جائے اور گڑھوں میں بغیر گور و کفن کے دفن کر دیا جائے۔بہر حال وہ مرنے والے مر گئے اور ہر حالت میں انہوں نے مرنا ہی تھا۔اب وہ ہماری یادگار اور ہماری تاریخ کی امانت ہیں اور ہماری جماعت ان کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے گی۔اور اگر وہ بے نام ہیں تب بھی وہ احمد یہ تاریخ میں زندہ رہیں گے اور احمدی نوجوان ان کے واقعہ کو اپنے سامنے رکھ کر ہمیشہ قربانی کی روح اپنے اندر تازہ رکھیں گے۔پس وہ مرے نہیں زندہ ہیں۔خدا کرے ان کی قربانی ضائع نہ جائے بلکہ ہماری جماعت کے افراد ان سے سبق حاصل کریں اور اسی قسم کی قربانی کے لئے ہر احمدی تیار ہے۔“ (10)