تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 225
جلد اوّل 196 تاریخ احمدیت بھارت لئے کیوں ناممکن ہے۔جو نمونہ انہوں نے دیکھا یا وہ ہم کیوں نہیں دکھا سکتے۔خدا کی رحمتیں ان لوگوں پر نازل ہوں اور ان کا نیک نمونہ مسلمانوں کے خون کو گرماتارہے اور اسلام کا جھنڈا ہندوستان میں سرنگوں نہ ہو۔اسلام زندہ باد! محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ باد! خاکسار مرزا محمود احمد (8) سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی پنڈت جواہر لال نہر وزیر اعظم بھارت سے ملاقات لمصلہ حضرت سیدنا مصلح الموعود نے ”سیر روحانی میں اس ملاقات کا ذکر درج ذیل الفاظ میں فرمایا ہے: چنانچہ جب پارٹیشن ہوئی تو میں جو پہلے اس طرف آیا ہوں تو اس غرض سے آیا تھا کہ پنڈت نہرو صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔میں نے سمجھا کہ اس سے جا کر بات کروں کہ یہ کیا ظلم ہورہا ہے۔سردار شوکت حیات صاحب کے ہاں وہ ٹھہرے تھے۔میں نے انہیں ملنے کے لئے لکھا تو انہوں نے وقت دے دیا۔میں نے ان سے کہا ہم قادیان میں ہیں۔گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے کہ جو ہندو ادھر رہے گا وہ پاکستانی ہے اور جو مسلمان اُدھر رہ جائے وہ ہندوستانی ہے۔اور اپنی اپنی حکومت اپنے اپنے افراد کو بچائے ، اور وہ لوگ جو حکومت کے وفادار ر ہیں، قائد اعظم اور گاندھی جی کے اس فیصلہ کے مطابق ہم چونکہ ہندوستان میں آرہے ہیں اس لئے ہم آپ کے ساتھ وفاداری کرنے کے لئے تیار ہیں بشرط یہ کہ آپ ہمیں ہندوستانی بنائیں اور رکھیں۔وہ کہنے لگے ہم تو رکھ رہے ہیں۔میں نے کہا آپ کیا رکھ رہے ہیں۔فسادات ہو رہے ہیں۔لوگ ماررہے ہیں۔قادیان کے ارد گرد جمع ہورہے ہیں۔مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے۔کہنے لگے۔آپ نہیں دیکھتے ادھر کیا ہو رہا ہے۔میں نے کہا ادھر جو ہو رہا ہے وہ تو میں نہیں دیکھ رہا میں تو ادھر سے آیا ہوں۔لیکن فرض کیجئے ادھر جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی ہو رہا ہے۔تب بھی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہاں کا جو ہندو ہے وہ تو پاکستانی ہے اور اس کی ہمدردی پاکستان گورنمنٹ کو کرنی چاہیئے۔ہم ہیں ہندوستانی آپ کو ہماری ہمدردی کرنی چاہئیے۔اس کا کیا مطلب کہ یہاں کے ہندوؤں پر سختی ہو رہی ہے تو آپ وہاں کے مسلمانوں پر سختی کریں گے۔کہنے لگے آپ جانتے نہیں لوگوں میں کتنا جوش پھیلا ہوا ہے۔میں نے