تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 226
تاریخ احمدیت بھارت 197 جلداول کہا آپ کا کام ہے کہ آپ اس جوش کو دبا ئیں۔بہر حال اگر آپ مسلمانوں کو رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کی حفاظت کرنی پڑیگی۔وہ کہنے لگے ہم کیا کر سکتے ہیں۔لوگوں کو جوش اس لئے آتا ہے کہ آپ کے پاس ہتھیار ہیں۔آپ انہیں کہیں کہ جو ہتھیار نا جائز ہیں وہ چھوڑ دیں۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمائیے میں ان کا لیڈر ہوں اور میں انہیں کہتا رہتا ہوں کہ جرم نہ کرو۔شرارتیں نہ کرو۔فساد نہ کرو۔اگر کسی نے ناجائز ہتھیار رکھا ہوا ہے تو کیا وہ مجھے بتا کر رکھے گا۔میں تو انہیں کہتا ہوں جرم نہ کرو۔پس وہ تو مجھ سے چھپائے گا۔اور جب اس نے اپنا ہتھیار مجھ سے چھپایا ہوا ہے تو میں اسے کیسے کہوں کہ ہتھیار نہ رکھے، کہنے لگے آپ اعلان کر دیں کہ کوئی احمدی اپنے پاس ہتھیار نہ رکھے۔میں نے کہا۔اگر میں ایسا کہوں تو میری جماعت تو مجھے لیڈر اس لئے مانتی ہے کہ میں معقول آدمی ہوں۔وہ مجھے کہیں گے صاحب! ہم نے آپ کو معقول آدمی سمجھ کر اپنا لیڈر بنایا تھا۔یہ کیا بیوقوفی کر رہے ہیں کہ چاروں طرف سے۔۔۔(شر پسند ) اور۔۔۔۔مفسدہ پرداز ) حملہ کر رہا ہے اور مار رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم اپنے پاس کوئی ہتھیار نہ رکھو۔آپ یہ بتائیں کہ ہم جان کیسے بچائیں گے۔کہنے لگے، کہ ہم بچائیں گے حکومت بچائے گی۔جب انہوں نے کہا حکومت بچائے گی تو میں نے کہا بہت اچھا۔میں اس وقت اپنے ساتھ تمام علاقہ کا نقشہ لے کر گیا تھا۔میں نے کہا قادیان کے گرد اتی (80) گاؤں پر حملہ ہو چکا ہے جو۔۔۔۔( شر پسندوں ) اور۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے جلا دیئے ہیں اور لوگ مار دیئے ہیں۔میں یہ نقشہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جب میں ان سے کہوں گا کہ دیکھو اپنے پاس ہتھیار نہ رکھو کیونکہ حکومت تمہیں بچائے گی تو وہ کہیں گے کہ سب سے آخری گاؤں جو حد پر تھا جس پر حملہ ہوا تو کیا گورنمنٹ نے اسے بچایا۔میں کہوں گا ارے گورنمنٹ خدا تھوڑی ہی ہے اسے آخر آہستہ آہستہ پتہ لگتا ہے کچھ عقل کرو۔دو چار دن میں گورنمنٹ آجائے گی۔پھر وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے اور کہیں گے تین دن ہوئے یہ گاؤں جلا تھا۔کیا گورنمنٹ نے مسلمانوں کو کوئی امداد دی۔میں کہوں گا خیر کچھ دیر تو لگ جاتی ہے تو وہ اگلے گاؤں پر ہاتھ رکھیں گے۔اچھا ہم مان لیتے ہیں کہ کچھ دیر لگنا ضروری ہے۔مگر اس گاؤں پر حملہ کے وقت حکومت نے حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا۔میں نے کہا یہ اسی (80) گاؤں ہیں۔اتنی (80) گاؤں پر پہنچ کر وہ مجھے فاتر العقل سمجھنے لگ جائیں گے یا نہیں۔کہ جتنے گاؤں ہم پیش کر رہے ہیں ان میں سے کسی پر بھی حملہ ہوا تو حکومت نہیں آئی۔شرمندہ ہو گئے اور کہنے لگے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ امن قائم