تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 168 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 168

جلد اوّل 152 تاریخ احمدیت بھارت عناصر پر حملہ کر دیا۔چونکہ۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ذہن میں یہ تھا کہ یہ ہندو ملٹری ہے وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہے۔برین گن سے گولیاں چلائیں جس سے کافی شر پسند لوگ مارے گئے۔جو 1200-1400 کے قریب ہونگے۔اس طرح آخری درہ پر مغرب کا وقت ہو گیا۔دائیں سے بائیں چکر لگا کر پہلے کوٹھی کا درہ پھر چوہدری عبد اللطیف کے دیوان خانہ پر آگئے پھر سب وہاں پر جمع ہو گئے۔چونکہ مسلمان ملٹری والوں کو حکم تھا کہ آج ہی واپس جالندھر پہنچ جاویں۔اس لئے ہم نے جانے کے لئے تیاری شروع کر دی۔لیکن گاؤں والوں نے کہا کہ اگر آپ چلے گئے تو رات کو یا صبح کو دشمن حملہ کر کے سب گاؤں والوں کو مار دیں گے۔میں نے پھر سب ساتھی فوجیوں کو سمجھایا کہ اگر آپ چلے گئے تو واقعی سب کو مار دیں گے۔اس لئے رات سروعہ میں گزاریں۔صبح کو ان کا قافلہ بنا کر گڑھ شنکر چھوڑ دیں گے۔پھر ہم نے سب گاؤں والوں کو کہا کہ اب سب اپنی تیاری کر لیں۔صبح گڑھ شنکر بمعہ قافلہ چلیں گے۔لہذا اس دوران گاؤں کا فضل محمد ولد نعمت علی سپاہی جو گارڈ میں موجود تھا۔اس نے اپنا سامان بمعہ والدین ٹرک میں لا دیا، اور ڈرائیور کو کہنے لگا کہ واپس چلو۔جب میں نے دیکھا تو فوراً اس کو منع کیا کہ تم اکیلے کیسے جاسکتے ہو۔اپنا سامان اتار دو اور صبح قافلہ کے ساتھ جانا۔چنانچہ اس کا سامان اتار دیا۔رات کو تین جگہ حفاظت کے لئے سپاہیوں کو بانٹ دیا۔صبح سورج نکلنے پر قافلہ گڑھ شنکر جانے کے لئے تیار ہو گیا اور گڑھ شکر کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ایک سپاہی قافلہ کے آگے لگا دیا۔ایک درمیان میں اور ایک پیچھے اور ٹرک میں میں خود اور حوالدار اور ڈرائیور اسلحہ لے کر بیٹھ گئے۔سارا قافلہ بحفاظت گڑھ شنکر پہنچ گیا۔صرف چار پانچ افراد قافلہ سے پیچھے رہ گئے تھے وہ جھگیوں کے پاس مارے گئے۔قافلہ والوں کو گڑھ شنکر چھوڑ کر ہم اسی روز جالندھر چھاؤنی میں بمعہ بیوی بچوں کے پہنچ گئے۔دوسرے دن فوجی گاڑی میں اہل خانہ کو جالندھر چھاؤنی سے لاہور پہنچا دیا۔پھر جالندھر چھاؤنی سے دو تین دفعہ گڑھ شنکر کا چکر لگایا اور کچھ رشتہ داروں کو جالندھر لے جاتے رہے اور لاہور پہنچاتے رہے اور ایک دو دفعہ کر یام، گنا چور، موضع بنگہ کا بھی ٹرک میں چکر لگاتے رہے۔جو مدہوسکی وہ کرتے رہے۔سروعہ کے کچھ لوگ تو گڑھ شکر سے اپنے رشتہ داروں کے ذریعہ سے لاہور پاکستان آگئے۔باقی کیمپ والوں کو ہندو ملٹری نے موضع راہوں کے راستہ سے پھلور پہنچادیا۔وہاں سے پھر ٹرین کے ذریعہ سے پاکستان پہنچے۔(40)