تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 39
جلد اوّل 36 تاریخ احمدیت بھارت بعد کے حقائق نے حضرت مصلح موعودؓ کے اندازے کو صحیح ثابت کر دیا۔مشرقی پنجاب یعنی انڈین پنجاب سے بہت کم تعداد پاکستان پہنچ پائی اکثر تباہ و برباد ہو گئے۔اس کے بالمقابل جماعت احمدیہ کے افراد خلافت کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان میں مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف ایک انتظام کے ماتحت ہجرت کر گئے۔اور دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کا مالی نقصان بہت کم ہوا۔خلافت احمدیہ کی بے شمار برکات میں سے یہ ایک عظیم الشان برکت تھی جس کو افراد جماعت نے محسوس کیا۔الحمد للہ علی ذلک۔حفاظت مرکز کے لئے احتیاطی اقدام اور احمدی نوجوانوں کا عدیم المثال ایثار جیسا کہ قبل ازیں تحریر کیا جا چکا ہے کہ مشرقی پنجاب میں اللہ تعالیٰ نے احمدیوں کو محفوظ رکھا۔دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کا نقصان بہت کم ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی بعض رؤیا و کشوف کی بنا پر آنے والے خطرات کے جم کا اندازہ لگالیا تھا۔آپ کی دور بین نگاہیں ان مہیب مصائب کو دیکھ چکی تھیں جو قادیان اور اس کے گردونواح کی طرف بڑھ رہے تھے۔حضور افراد جماعت کو کبھی اشارہ اور کبھی صراحتاً ان سے آگاہ فرماتے چلے آرہے تھے۔چند ارشادات درج ذیل ہیں۔شعائر اللہ اور قومی شعائر کی حفاظت کے لئے تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے جولوگ قومی اور ملی مفاد کے لئے قربانی کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو ابدی جہان عطا کرتا ہے۔پس جہاں تمہیں شعائر اللہ اور قومی شعائر کی حفاظت کے لئے جانیں قربان کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب خدا اور اس کے دین کے لئے تمہیں بلایا جائے اسوقت تم اپنی جانوں کی اتنی قیمت بھی نہ سمجھو جتنی ایک مری ہوئی مکھی کی ہوتی ہے۔“ 21 ”ہماری جماعت کے لئے فتنہ وفساد اور جنگ و جدال کا زمانہ قریب سے قریب تر آ رہا ہے۔اس لئے نہایت ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جماعت مرکز کے پاس جمع ہو جائے۔اور اپنے اندر وہ جذ بہ اور روح پیدا کرے جو انبیاء کی جماعتوں کا خاصہ ہے۔اگر آپ لوگ ایسا کریں گے تو خواہ کتنے بڑے خطرات پیش آئیں خدا تعالیٰ ان کو دور کر دے گا۔بلکہ ان کو آپ لوگوں کی کامیابی کا ذریعہ بنادے گا۔22