تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 38
تاریخ احمدیت بھارت 35 جلد اول کا موقعہ ملا۔خاکسار ہر جگہ عمر رسیدہ چشم دید بڑی عمر کے لوگوں سے ملا۔اور ان اندوہ ناک ایام کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور تباہیوں کے بارے میں تفصیل سے دریافت کیا۔ہر جگہ یکساں کہانی سننے کوملی۔ایک دفعه خاکسار سبحان پور پیره (حال صوبہ ہماچل گیا۔وہاں معمر بزرگوں نے بتایا کہ ہمارے اس علاقے میں ہزاروں لٹے ہوئے مسلمان مرد عورتیں اکٹھے ہو کر پاکستان کے لئے پیدل روانہ ہوئے۔ان میں سے اکثر یہاں اور پھر راستے میں قتل کر دئے گئے تھے۔اور ان کی لاشیں دریائے بیاس میں پھینک دی گئی تھیں۔یہ بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ہر جگہ یہ سننے کوملا کہ مفسدہ پرداز ہمارے ان اضلاع کے نہیں تھے بلکہ پنجاب کے دوسرے علاقوں کے تھے۔اور بڑی بے دردی اور ظالمانہ طریق پر مسلمانوں کو چن چن کر قتل کرتے تھے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا وہ زبردستی چھین لیتے۔اس قسم کے المناک واقعات ہر جگہ سننے کو ملتے۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت احمدیہ کے افرادان مصیبتوں سے بچائے گئے۔اس میں شک نہیں کہ ان کا بھی مالی نقصان ہوا۔جائیداد میں چھین لی گئیں۔مگر جانی نقصان بہت کم ہوا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ احمدی خواتین ہر لحاظ سے محفوظ رہیں۔فالحمدللہ علی ذلک۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت مصلح موعود وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور حکومت کو ان خطرات سے آگاہ فرماتے چلے آرہے تھے جو مسلمانوں کو پیش آنے والے تھے۔آزادی کے اعلان سے تقریباً چون (54) دن بعد آپ نے ایک تازہ آفیشل رپورٹ کے بارے میں فرمایا ( اس رپورٹ کا تفصیلی ذکر آئندہ صفحات پر آئے گا ): ”ہمارے حساب سے تو یہ اندازہ بھی غلط ہے۔مسلمان ساڑھے سولہ لاکھ نہیں 25، 26 لاکھ کے قریب مشرقی پنجاب (انڈیا۔ناقل ) میں پڑے ہیں اور خطرہ ہے کہ اپنے حقوق کو استقلال کے ساتھ نہ مانگنے کے نتیجہ میں یہ سات لاکھ غیر مسلم بھی جلدی سے اُدھر (انڈیا۔ناقل ) نکل جائے گا۔اور 25 لاکھ مسلمانوں میں سے بمشکل ایک دولاکھ ادھر ( پاکستان۔ناقل ) پہنچے گا، یا کوئی اتفاقی بچکر نکلا تو نکلا ورنہ جو کچھ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے اور۔۔۔ملٹری اور پولیس ان سے کر رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی اُمیدان کے بچنے کی نظر نہیں آتی۔بعض چھوٹے افسر یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ مغربی پنجاب ( پاکستان۔ناقل ) اتنے پناہ گزینوں کو سنبھال نہیں سکتا۔پس جتنے مسلمان ادھر مرتے ہیں اس سے آبادی کا 66 کام آسان ہو رہا ہے۔یہ ایک نہایت ہی خطر ناک خیال ہے۔20