تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 29 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 29

جلد اول 28 تاریخ احمدیت بھارت سکھ اور احمدی، غیر احمدیوں کے لئے بمنزلہ امانت ہیں اور ان کا فرض ہے کہ ان کی حفاظت کریں۔اسی طرح جہاں ہندو یا سکھ زیادہ طاقت ور ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت کریں کیونکہ مسلمان ان کے پاس بطور امانت ہیں۔اسلامی شریعت کے لحاظ سے ہر شریف انسان کا فرض ہے کہ وہ امانت کو دیانتداری سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔پس اگر خدانخواستہ قادیان خطرے میں پڑے تو میں قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کی اپنے عزیزوں سے بڑھ کر حفاظت کرینگے اور اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن ذریعہ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گئے“۔(14) ہندوستان کی آزادی کے بل کا منظر عام پر آنا مؤرخہ 4 جولائی 1947 ء کو ہندوستان کی آزادی کا مسودہ قانون جس کا ایک عرصہ سے انتظار کیا جا رہا تھا برطانوی پارلیمنٹ کے دارالعوام میں پیش ہوا۔اس بل کے مطابق 15 راگست 1947ء کو ہندوستان سے برطانوی اقتدار کا دستبردار ہونا اور دو آزاد حکومتوں کا قائم ہونا مقدر تھا جو بھارت اور پاکستان کے نام سے موسوم ہو ئیں۔اس بل کے مطابق 15 اگست 1947 ء سے ہندوستان کی ریاستوں اور آزاد قبائلی علاقوں کے درمیان حکومت برطانیہ کے تمام معاہدے ختم ہو گئے۔دونوں ملکوں کے لئے علیحدہ علیحدہ گورنر جنرل مقرر کئے گئے۔برطانوی حکومت کا کوئی بھی قانون ان دونوں نئی حکومتوں میں قائم نہیں رہا۔دونوں آزاد حکومتوں کے دستور ساز اداروں کو اپنا اپنا آئین بنانے کی مکمل آزادی دی گئی۔اس کے ساتھ ہی اس بل میں بنگال اور پنجاب کی تقسیم کو منظور کر لیا گیا جو بعد میں بہت بڑے فساد اور کشت وخون کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔اور ہزاروں ہی نہیں بلکہ لاکھوں نفوس کی زندگیوں پر اس کا اثر پڑا۔(15) ہندوستان کی آزادی کا اعلان اور پاکستان کا قیام دوسری عالمگیر جنگ کے اختتام کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ برطانوی حکومت کسی وقت بھی ہندوستان کی آزادی کی معین تاریخ اور لائحہ عمل کا اعلان کر دے گی۔امید اور ناامیدی کی کیفیات میں ہی مزید