تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 268
تاریخ احمدیت بھارت 239 جلد اول خدائی رعب اور حملہ آوروں کی پسپائی راقم الحروف محمد حمید کوثر مورخہ 10 جون 1973ء کو گورداسپور میں ”مولوی فاضل کا امتحان دے رہا تھا اور اس عرصہ میں گورداسپور میں ہی مقیم تھا۔قادیان سے روانہ ہوتے وقت حضرت مولا نا عبد الرحمن صاحب فاضل ناظر اعلیٰ و امیر جماعت احمد یہ قادیان نے خاکسار کو ایک چٹھی دی کہ یہ گورداسپور میں گیانی ہزارہ سنگھ صاحب ریٹائر ڈ ڈی۔ایس۔پی (D۔S۔P) کو پہنچا دینا۔چنانچہ خاکسار وہ چٹھی گیانی صاحب کو دینے ان کے مکان پر گیا۔سول لائنز گورداسپور میں ان کا مکان تھا۔گیانی صاحب بڑی محبت سے ملے۔چٹھی لینے کے بعد خاکسار سے پوچھا رہنے کی جگہ مل گئی۔اگر نہیں ملی تو میرے گھر آجاؤ۔خاکسار نے بتایا کہ ہوٹل میں جگہ مل گئی ہے۔اس پر نصیحت کی کہ کبھی کبھی آجایا کرو۔یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔اس کے بعد ان سے متعدد بار ملاقات ہوئی۔آخری ملاقات 1990ء میں ہوئی۔خاکسار محترم ملک صلاح الدین صاحب مؤلف اصحاب احمد کے ہمراہ ان سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔ملک صاحب نے انہیں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور بزرگان سلسلہ احمدیہ کے متعلق اپنے تجربات و مشاہدات تحریر کر کے بھیجوانے کے لئے کہا۔گیانی صاحب نے وعدہ بھی کیا۔شاید کسی مجبوری کی وجہ سے وہ وعدہ پورا نہ کر سکے۔خاکسار جب بھی ان سے ملتا تو ان سے تقسیم ملک کے وقت رونما ہونے والے حالات و واقعات کو کرید کرید کر پوچھتا۔ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ اکتوبر 1947ء کے پہلے ہفتہ میں جماعت احمدیہ کے تقریباً دوصد افراد ( جن میں کچھ غیر احمدی بھی تھے ) کو شہید کر کے کہاں پر یکجائی طور پر دفن کیا گیا تھا؟ میرے اس سوال پر وہ یکدم آبدیدہ ہو گئے۔کہنے لگے ” مجھ سے اس قسم کے سوالات نہ پوچھ مجھے کچھ ہوتا ہے۔پھر کہنے لگے ” قادیان آؤں گا وہ جگہیں دکھا دوں گا“۔اور بھی بہت سی باتیں انہوں نے بتا ئیں 66 جن کی تفصیل کا یہاں موقعہ نہیں۔افسوس وہ قادیان نہ آسکے۔اور از خود معین جگہ کی نشان دہی نہ کر سکے۔گیانی صاحب نے بتایا کہ ”میں جنوری 1939ء میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس تھانہ صدر بٹالہ میں متعین تھا۔اس تھانہ کے حلقہ میں قادیان ایک چوکی تھی جہاں مجھے مارچ 1939ء میں متعین کر دیا گیا۔بعد ازاں مجھے تھا نہ پٹھانکوٹ بھجوادیا گیا، اور تقسیم ملک کے وقت میں پٹھانکوٹ میں ہی تھا۔حکام بالا کی