تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 6 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 6

جلداول تاریخ احمدیت بھارت موردعتاب ہوتا تھا اور سقیم الحال اور غربا اور مساکین کی خبر گیری اور پرورش کے لئے ایک خاص سرمایہ نقد اور جنس کا جمع رہتا تھا جو وقتا فوقتا اکوتقسیم ہوتا تھا۔یہ ان تحریرات کا خلاصہ ہے جو اس وقت کی لکھی ہوئی ہم کوملی ہیں جن کی زبانی طور پر بھی شہادتیں بطریق مسلسل اب تک پائی جاتی ہیں۔یہ بھی لکھا ہے کہ ان دنوں میں ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا غیاث الدولہ نام قادیان میں آیا اور مرزاگل محمد صاحب مرحوم کے استقلال وحسن تدبیر و تقوی وطہارت و شجاعت و استقامت کو دیکھ کر چشم پر آب ہو گیا اور کہا کہ اگر مجھے پہلے سے خبر ہوتی کہ خاندان مغلیہ میں سے ایک ایسا مرد پنجاب کے ایک گوشہ میں موجود ہے تو میں کوشش کرتا کہ تا وہی دہلی میں تخت نشین ہو جاتا اور خاندان مغلیہ تباہ ہونے سے بچ جاتا۔غرض مرزا صاحب مرحوم ایک مرد اولی العزم اور متقی اور غایت درجہ کے بیدار مغز اور اول درجہ کے بہادر تھے اگر اس وقت مشیت الہی مسلمانوں کے مخالف نہ ہوتی تو بہت امید تھی کہ ایسا بہادر اور اولی العزم آدمی سکھوں کی بلند شورش سے پنجاب کا دامن پاک کر کے ایک وسیع سلطنت اسلام کی اس ملک میں قائم کر دیتا۔جس حالت میں رنجیت سنگھ نے باوجود اپنی تھوڑی سی پدری ملکیت کے جو صرف نو (9) گاؤں تھے۔تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر پیر پھیلا لئے تھے جو پشاور سے لدھیانہ تک خالصہ ہی خالصہ نظر آتا تھا اور ہر جگہ ٹڈیوں کی طرح سکھوں کی ہی فوجیں دکھائی دیتی تھیں تو کیا ایسے شخص کے لئے یہ فتوحات قیاس سے بعید تھیں؟ جس کی گمشدہ ملکیت میں سے ابھی چوراسی یا پچاسی گاؤں باقی تھے اور ہزار کے قریب فوج کی جمعیت بھی تھی اور اپنی ذاتی شجاعت میں ایسے مشہور تھے کہ اس وقت کی شہادتوں سے بہ بداہت ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں ان کا کوئی نظیر نہ تھا لیکن چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہی چاہا تھا مسلمانوں پر ان کی بے شمار غفلتوں کی وجہ سے تنبیہ نازل ہو اس لئے میرزا صاحب مرحوم اس ملک کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کامیاب نہ ہو سکے اور میرزا صاحب مرحوم کے حالات عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفین مذہب بھی ان کی نسبت ولایت کا گمان رکھتے تھے اور ان کی بعض خوارق عادت امور عام طور پر دلوں میں نقش ہو گئے تھے یہ بات شاذ و نادر ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مخالف اپنے دشمن کی کرامات کا قائل ہو لیکن اس راقم نے مرزا صاحب مرحوم کے بعض خارق عادت ان سکھوں کے منہ سے سنے ہیں جن کے باپ دادا مخالف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے۔اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات مرزا صاحب مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر میدان جنگ میں نکل کر ان پر فتح پالیتے تھے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ ان کے