تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 235 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 235

جلد اوّل 206 تاریخ احمدیت بھارت کے دوست ہیں۔جن میں سے کئی ایک ارجنٹائن قومیت کے ہیں یا جو ارجنٹائن تو نہیں لیکن ان کے بچے یہاں پیدا شدہ ہیں، ایک ہمدردانہ تحریک کی جائے اور ہندوستانی حکومت سے اس قدیم علمی شہر اور اس میں بسنے والے باشندوں کی حفاظت کی درخواست کی جائے مولوی صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ مندرجہ بالا حکومت کے لئے ارجنٹائن کی حکومت سے اخلاقی اور معنوی مدد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔“ (16) ارجنٹائن (جنوبی امریکہ) کے مشہور اخبار ” السلام نے اپنی 23 ستمبر 1947ء کی اشاعت میں قادیان کے عنوان سے ایک نوٹ شائع کیا جس میں لکھا کہ : لنڈن کے تاروں سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان جو ہندوستان کا ایک مشہور دار العلوم اور جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اسے۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی ایک زبردست جمعیت نے پولیس اور ملٹری کے بل بوتے پر چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور اسے تباہ و برباد کر نا چاہتے ہیں۔یہ بھی کوشش ہو رہی ہے کہ ارجنٹائن کی حکومت اس امر میں مداخلت کر کے ہندوستان کی حکومت سے قادیان کی حفاظت کا مطالبہ کرے۔اور اسے اہل قادیان کے ساتھ شریف شہریوں کا سا سلوک کرنے کی تحریک کرے“۔اخبار مذکور نے مزید لکھا ہے کہ قادیان کے متعلق جیسا کہ ہمیں علم ہے وہاں کئی ایک کالج، ہائی سکول اور ابتدائی مدارس ہیں اور جماعت احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے قادیان تمام دنیا میں مشہور ہے۔“ (17) برطانوی پریس میں ذکر برطانوی پریس میں بھی قادیان کے لرزہ خیز واقعات کی بازگشت سنائی دی گئی اور ملک کے چوٹی کے اخبارات مثلاً ” ساوتھ ویسٹرن سٹار South western star) ڈیلی پریزر( Daily Preser)' برسٹل ایوننگ پوسٹ (Bristol Evening post) ڈیلی گریف‘( Daily The Daily telegraph and morning post)(Graphic) ”دی ڈیلی ٹیلیگراف اینڈ مارنگ پوسٹ ڈیلی ایکسپرس (Daily express) وغیرہ نے قادیان سے متعلق مسٹر بشیر آرچرڈ کے بیانات نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کئے۔