تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 160 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 160

جلد اوّل 144 تاریخ احمدیت بھارت ہوکر دوسری طرف ایک بہت بڑا زخم کر کے نکل گئی۔اگر الہی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو میں ضرور سٹرک کے اوپر ڈھیر ہو جاتا اور بعد میں جو میرا حشر ہوتا وہ ظاہر تھا۔ابھی زخمی ہونے کے احساس سے میں فارغ ہی نہ ہوا تھا کہ ایک اور گولی میری اسی ٹانگ کے نزدیک سے گزرتی ہوئی ہماری لاری کی پیٹرول ٹینکی میں پیوست ہوگئی۔جس سے سارا پیٹرول اسی وقت زمین کی نظر ہو گیا۔آپ یقین جانئے کہ مجھے اپنے زخمی ہونے کا اس قدر صدمہ نہ ہوا جس قدر پیٹرول کے ضائع ہونے سے ہوا تھا۔کیونکہ اس سے زندہ بچنے کی امید کی آخری کرن بھی ختم ہو گئی۔آپ کے دل میں یہ خیال ضرور گزرا ہوگا کہ میری ٹانگ جب کہ لاری کی موٹی چادر کے پیچھے محفوظ جگہ پر تھی تو گولی وہاں کس طرح پہنچی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ فرنٹ سیٹ میں ڈاکٹر میجر منیر احمد صاحب خالد فوجی یونیفارم میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ میاں بشیر احمد صاحب پاسپورٹ آفیسر بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ان دونوں کا انہوں نے نشانہ کیا تو گولی ان دونوں کے بازوؤں کے درمیان میں سے نکل کر لاری کی چادر کو چیرتی ہوئی میری ٹانگ کو بری طرح زخمی کرنے کا موجب بن گئی۔گولیاں ابھی تک بارش کی طرح برس رہی تھیں اور سات ہزار۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) اس سے پیشتر کچھ فاصلے پر ہمارے گردو پیش کھڑے تھے۔اب ہمارے قریب ہونے لگے۔دیکھنے میں وہ انسان تھے مگر حقیقت میں وہ خونخوار درندے تھے۔ان کی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔کیا بتاؤں وہ منظر کس قدر خوفناک تھا ؟ بس یہی سمجھ لیجئے کہ موت اپنے ہیبت ناک جبڑے کھولے ہوئے خراماں خراماں ہماری طرف آ رہی تھی۔موت یقینی تھی۔اس وقت نہ مجھے اپنے بیوی بچوں کا خیال تھا نہ عزیز رشتہ داروں کا احساس اور نہ ہزاروں روپیہ کے کاروبار کے ضائع ہونے کی فکر تھی۔ہاں صرف یہ احساس ستائے جارہا تھا کہ جب ہمارے پیارے امام کو ہماری اس طرح موت کی خبر پہنچے گی تو حضور کو کتنی تکلیف اور قلق ہوگا۔انہی احساسات میں میں گم تھا کہ اچانک سامنے کی طرف سے تین ملٹری ٹرک اپنی طرف آتے ہوئے دیکھے اور یہ ٹرک عین اس جگہ آکر رک گئے جہاں ہمارا راستہ بڑے بڑے لوہے کے پہیئے رکھ کر مسدود کیا ہوا تھا۔چونکہ جس لاری پر میں تھا وہ دوسرے نمبر پر تھی اس لئے مجھے ان لڑکوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی ایک ایک حرکت صاف نظر آ رہی تھی۔میں نے دیکھا کہ اگلے اور پچھلے ٹرک میں بیٹھے ہوئے چند مسلح فوجیوں نے رائفلیں اُٹھا ئیں اور ان کا رخ درمیان والے ٹرک (جس میں۔۔۔۔(غیر مسلم ) مرد عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ) کی طرف پھیر دیا۔اس پر ان۔۔۔۔(غیر مسلموں) نے مورچے والوں کی اپنے ہاتھوں کے اشاروں سے منت سماجت کی کہ وہ