تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 161
تاریخ احمدیت بھارت 145 جلد اوّل فائرنگ بند کر دیں۔واقعہ یوں ہوا تھا کہ لاہور سے۔۔۔۔(غیر مسلم ) پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ایک ٹرک پاکستانی فوجی دستہ کی نگرانی میں بٹالہ لایا جا رہا تھا۔اس فوجی دستہ نے جب ہمارا یہ حشر دیکھا تو اس نے۔۔۔(غیر مسلم ) پناہ گزینوں کو رائفلوں سے ڈرا دھمکا کر کہا کہ فائرنگ بند کراؤ ورنہ تم سب کو ابھی یہاں ڈھیر کر دیا جائے گا۔چنانچہ ان کی یہ تجویز کارآمد ثابت ہوئی اور فائرنگ بند ہوگئی۔جونہی فائرنگ بند ہوئی ایک خوبصورت جسیم نوجوان نے جوشکل و شباہت سے اس دستہ کا آفیسر دکھائی دے رہا تھا فور لاری سے اتر کر سڑک پر سے دو پہیئے ہٹا دیئے اور انگلی کے اشارے سے ہمارے ڈرائیوروں کو فوراً نکل جانے کو کہا۔بس پھر کیا تھا اشارہ ملتے ہی ہماری اگلی لاری ہوا سے باتیں کرنے لگی۔لاری کو روانہ ہوتے دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ میرے سامنے ہماری لاری کا پیٹرول گر کر ضائع ہو چکا تھا۔اور بغیر پیٹرول کے لاری چل کس طرح سکتی تھی۔اور پھر میرے لئے یہ اور بھی قابل افسوس امر تھا کہ ہماری وجہ سے باقی تمام پچھلی لاریاں رکی رہیں گی۔لیکن اللہ کی شان نرالی ہے۔سچ ہے جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے۔آپ میری حیرت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جب میں نے دیکھا کہ ہماری لاری بھی آن واحد میں ہوا میں اڑنے لگی۔مجھے اسکا قطعا علم نہ تھا کہ بعض لاریوں میں دو پیٹرول ٹینکیاں ہوا کرتی ہیں۔ایک ظاہر اور دوسری پوشیدہ۔اس علم کا انکشاف بعد میں ہوا جبکہ میں ہسپتال (لاہور۔ناقل ) میں تھا۔ابھی تک میرے زخم سے خون کی دھاریں ابھر رہی تھیں۔زیادہ خون نکلنے کی وجہ سے میں سخت نڈھال اور کمزور ہو چکا تھا۔فرنٹ سیٹ کی چھت پر میں نے اپنا سر رکھا اور پھر اس کے بعد ایسی غشی طاری ہوئی کہ واگہ ( واہگہ بورڈر۔ناقل ) پہنچ کر میری آنکھ کھلی۔(36) دہلی کے فسادات اور احمدی شہداء کا ذکر چونکہ قادیان اور اس کے ماحول میں فسادات کے ایام میں شہید ہونے والے احمدیوں کا ذکر آگے آرہا ہے۔یہاں ہم دہلی کے احمدی شہداء کا ذکر کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔دہلی میں فسادات کا ذکر کرتے ہوئے اخبار الفضل میں ایک خبر شائع ہوئی جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔پچھلے دنوں خانہ جنگی کا خوف ناک اور بھیا نک سیلاب سارے ہندوستان میں آیا۔ہندوستان