تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 84
تاریخ احمدیت بھارت جلد اوّل 68 مقررہ کے بعد بھی قادیان نہ پہنچے تو مذکورہ بالا فرض شناس انگریز خود جیپ کار پر سوار ہو کر گورداسپور گیا اور وہاں سے خالی ٹرک ساتھ لے کر قادیان پہنچا۔معلوم ہوا کہ گورداسپور کے افسر خالی ٹرک واپس نہیں آنے دیتے تھے بلکہ وہاں سے ہی لوگوں کو سوار کر کے بھیجنا چاہتے تھے۔مگر اس انگریز افسر کی کوشش کامیاب ہوئی اور وہ اپنے ساتھ خالی ٹرک لے کر قادیان پہنچا اور ان پر عورتوں اور بچوں کو دوسرے دن سوار کرایا۔قادیان کے حالات چونکہ اسے بھی بیحد خطر ناک نظر آ رہے تھے۔ہر طرف تباہی و بربادی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے مسلح جتھے ادھر ادھر منڈلا رہے تھے۔ملٹری اور پولیس بھی قابل اعتماد نظر نہ آتی تھی۔اس لئے اس نے ضروری سمجھا کہ ہزاروں عورتیں اور بچے جن کی حفاظت کا فرض اس پر عائد ہو چکا ہے۔ان کی حفاظت اور سلامتی کے لئے ہر ممکن کوشش اور انتظام کرے اور کہنا پڑتا ہے کہ جہاں تک ظاہری کوشش اور سامان کا تعلق ہے اس نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے یہ فرض ادا کیا۔سو کے قریب ملٹری ٹرک تھے جن کو دائرہ کی شکل میں کھڑا کر دیا اور اندر کی طرف ہر ایک کی سواریوں کو اتار کر آرام کرنے کے لئے کہہ دیا۔باہر کی طرف کڑا پہرہ قائم کر دیا۔اس کے علاوہ قریب قریب کے مکانوں پر مضبوط پلٹیں قائم کر دیں۔افسروں کو نگرانی پر کھڑا کر دیا۔خود بھی مسلح کار پر چکر لگاتار ہا۔ملٹری جو قریباً ساری کی ساری احمدی نوجوانوں پر مشتمل تھی ، بڑے سے بڑے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری رات بالکل تیار رہی۔اس طرح رات امن اور خیریت سے گزرگئی اور صبح کو قافلہ روانہ ہو گیا۔یہ اس قافلہ کا ذکر ہے جس میں قادیان کی تمام عورتیں اور بچے آخری بار روانہ ہو گئے۔اس سے قبل پرائیویٹ لا ریوں کا ایک اور کنوائے ملٹری کی حفاظت میں اس وقت پہنچا تھا جبکہ ابھی قادیان میں رہنے والوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالا گیا تھا اس پر سوار ہونے والوں پر بھی انتہائی تشدد کیا گیا۔ابھی وہ کنوائے رکا ہی ہوا تھا کہ اگلے دن صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب میجر ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی سرکردگی میں چند ملٹری پر مشتمل ایک اور کنوائے پہنچ گیا۔جب یہ کنوائے تیار ہو کر اس جگہ پہنچا جہاں ہندوستانی ملٹری تلاشی لیتی تھی تو پہلا کنوائے وہیں رکا پڑا تھا۔اور ملٹری کی مار دھاڑ کا شکار ہورہا تھا۔اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب نے عورتوں اور بچوں کی سہولت کی خاطر اپنے رتبہ اور درجہ کی کوئی پروانہ کرتے ہوئے ایک ایسا طریق اختیار کیا جو نہایت کامیاب ثابت ہوا۔اور ان کے زیر حفاظت کنوائے تھوڑی دیر کے بعد ہی روانہ ٹرکوں پر