تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 85 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 85

تاریخ احمدیت بھارت 69 جلد اوّل ہو گیا۔اس وقت موقعہ پر تلاشی لینے والا بڑا افسر موجود نہ تھا۔وہ گورداسپور گیا ہوا تھا اور انچارج صاحبزادہ صاحب کے مقابلہ میں کوئی بہت چھوٹے درجہ کا افسر تھا۔میں نے دیکھا صاحبزادہ صاحب نے بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہوئے اپنا بازو اس کی کمر میں ڈال دیا۔اسے ساتھ لئے ہوئے ادھر ادھر ٹہلنے لگے اور وہ آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔آپ کی یہ ادا دیکھ کر میرا دل خوشی اور مسرت سے بھر گیا کہ حضرت مسیح موعود کی اولاد ہمارے لئے کیا کیا کوشش کر رہی ہے۔چند ہی منٹ بعد آپکے کنوائے کو بغیر تلاشی لئے روانگی کی اجازت مل گئی اور اس طرح آپ نے حسین تدبیر سے خواتین اور بچوں کو بڑی تکلیف سے بچالیا بحالیکہ آپ سے پہلے آنے والا قافلہ اس دن بھی نہ جاسکا جو اگلے دن روانہ ہوا۔ٹرکوں میں سوار ہونے کے سلسلہ میں عورتوں کو ایک بڑی تکلیف یہ بھی در پیش تھی کہ ہندو ملٹری کا قریباً ہر سپاہی اور افسر چند ایک بیرونی پناہ گزین مردوں اور عورتوں کو اپنے ساتھ لگائے پھرتا اور ہر ٹرک میں جو پہلے ہی عورتوں اور بچوں سے لبالب بھرا ہوتا نہ صرف عورتوں کو بلکہ مردوں کو بھی زبردستی ٹھونسنا چاہتا اور با وجود بار بار صدائے احتجاج بلند کرنے کے ٹھونس کر ہی رہتا۔یہ کون لوگ تھے ، وہی خانماں برباد جواپنی رہی سہی پونجی ان بھیڑیوں کی نذر کر دیتے تا کہ جان بچا کر ان کے نرغہ سے نکل سکیں۔ان ہولناک اور تباہ کن ایام میں جبکہ مشرقی پنجاب کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک لاکھوں مسلمان انتہائی مظالم کا شکار ہو رہے اور سفاکوں کے ظلم وستم سے بچنے اور اپنے تنگ و ناموس کو بچانے کی کوئی صورت نہ پاتے تھے۔چنانچہ اب تک لاکھوں ہی موت کے گھاٹ اتر چکے اور لاکھوں ابھی تک مخلصی پانے کا کوئی ذریعہ میسر نہ آنے کی وجہ سے موت کے پنجہ میں گرفتار ہیں۔یہ انتظامات۔۔۔، قادیان سے ہزاروں عورتوں اور بچوں کو صحیح سلامت نکال لانے کے انتظامات۔۔۔خواتین کے ننگ و ناموس اور عزت وحرمت کو محفوظ رکھنے کے یہ انتظامات۔۔۔حضرت امیر المومنین خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی دن رات کی ان کوششوں اور مساعی کا ہی نتیجہ ہے جنہیں خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے شرف قبول بخشا اور جن کی کامیابی کی مثال ، جان و مال عزت و آبرو کی تباہی کے اس غیر معمولی سیلاب میں اور کہیں نہیں مل سکتی۔اور جب یہ دیکھا جائے کہ ہمارے راستہ میں جس قدر مشکلات حائل تھیں۔ہمارے مقابلہ میں رکاوٹوں کے جس قدر پہاڑ کھڑے تھے اور ہم بے سروسامانی کی جس حد کو پہنچے ہوئے تھے اس کی