تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 72 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 72

جلد اوّل 56 تاریخ احمدیت بھارت اسیروں کا رستگار حضور کی ہجرت کے بعد قادیان کے حالات روز بروز سنگین ہوتے چلے جا رہے تھے۔نواحی علاقوں میں ہزاروں ہزار ہا مسلمان قتل کئے جاچکے تھے۔اور ان کے پاس جو کچھ تھوڑا بہت زیور اور رقم یا سامان تھا لوٹا جا رہا تھا۔غیر احمدی مسلمانوں کی سینکڑوں عورتیں اور لڑکیاں شر پسند عناصر نے اغوا کرلیں اور بے بس مسلمان اپنی آنکھوں سے یہ مکروہ نظارے دیکھتے رہے مگر کچھ کرنے کی نہ ہمت تھی نہ طاقت۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب قمر الانبیاء رضی اللہ عنہ ( جو 23 ستمبر 1947 ء تک قادیان میں مقیم رہے بعد ازاں لا ہور تشریف لے گئے ) تحریر فرماتے ہیں: مفسده پردازوں کی سکیم صرف قتل و غارت یا لوٹ مار یا مسلمان آبادی سے ضلع ( گورداسپور ) کو خالی کرانے تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں مسلمان عورتوں کے ننگ و ناموس کو برباد کرنا بھی شامل ہے۔چنانچہ میری موجودگی میں ہی ماحول قادیان کی (غیر احمدی پناہ گزین ، ناقل ) اغوا شدہ عورتوں کی تعداد سات سو تک پہنچ چکی تھی۔اور بہت سی معصوم عورتوں کی عصمت دری کے نظارے گو یا ہماری آنکھوں کے سامنے تھے۔‘ (10) غیر از جماعت مسلمانوں کی خواتین کے اغوا اور زبردستی چھینے کے یہ محدود اعداد و شمار صرف ضلع گورداسپور کے نواحی علاقوں کے ہیں ورنہ ایسی مظلوم خواتین کی تعداد تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔حضرت الصلح الموعود 31 اگست 1947ء کو قادیان سے لا ہور تشریف لے گئے تھے۔لاہوراس وقت متحدہ پنجاب کا دارالحکومت تھا۔وہاں پہنچنے کے ساتویں دن مورخہ 7 ستمبر 1947 ء کو مجلس مشاورت میں طے پایا کہ قادیان سے احمدی عورتوں اور بچوں کو فوری طور پر نکال کر لاہور بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔ہیں پچیس ہزار عورتوں اور بچوں کو اتنے خطرناک اور مخدوش حالات میں بحفاظت لاہور پہنچانا کوئی آسان کام نہ تھا۔مگر وہ انسان عظیم " جس کے بارے میں رب کریم نے قبل از وقت بتایا تھا کہ وہ ”اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا زمانہ شاہد و گواہ ہے حضرت اصلح الموعود کا وجود ہزاروں اسیروں و مجبوروں اور بے بس عورتوں بچوں اور انسانوں کی رستگاری اور رہائی کا موجب بنا۔