تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 51 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 51

جلداول 46 تاریخ احمدیت بھارت کر گیا تھا کبھی کبھی خونی حملوں کی لہریں جزیرے کے کنارے عبور کرنے لگی تھیں۔حضرت المصلح الموعودؓ نے ان حالات کا تذکرہ اپنے مکتوب گرامی میں کچھ اس طرح فرمایا ہے:۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ” برادران جماعت احمدیہ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته فسادات بڑھ رہے ہیں۔قادیان کے گرد دشمن گھیرا ڈال رہا ہے۔آج سنا گیا ہے۔ایک احمدی گاؤں پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے۔اس گاؤں کی آبادی چھ سو سے اوپر تھی۔ریل ، تار، ڈاک بند ہے۔ہم وقت پر نہ آپ کو اطلاع دے سکتے ہیں اور نہ جو لوگ قادیان سے باہر ہوں اپنے مرکز کے لئے کوئی قربانی ہی کر سکتے ہیں۔میں نے احتیاطاً خزانہ قادیان سے باہر بھجوا دیا ہے۔پھر بھی اگر ان فسادوں کی وجہ سے بعض کو روپیہ ملنے میں دیر ہو تو انہیں صبر سے کام لینا چاہیئے کہ یہی وقت ایمان کی آزمائش کے ہوتے ہیں۔مجھے بعض لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔ان لوگوں کے اخلاص میں شبہ نہیں لیکن میری جگہ قادیان ہے۔اس میں کوئی شک نہیں تفسیر کا کام اور کئی اور کام پڑے ہیں۔لیکن ان کاموں کے لئے خدا تعالیٰ اور آدمی پیدا کر دے گا یا وہ مجھے قادیان میں ہی دشمن کے حملہ سے بچالے گا۔لیڈر کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیئے۔یہ خدا تعالیٰ پر بدظنی ہے۔مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا اور ہمیں فتح دے گا مگر پھر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت اور احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض مستورات کو باہر بھجوانے کا ارادہ ہے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا۔اگر اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے وعدوں کے مطابق آگئی تو یہ سب خدشات صرف ایک احمقانہ ڈر ثابت ہوں گے۔لیکن اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے سمجھنے میں غلطی کی ہے تو یہ احتیاطیں ہمارے لئے ثواب کا موجب ہوں گی۔آخر میں میں جماعت کو محبت بھر اسلام بھجواتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو۔اگر ابھی میرے ساتھ مل کر کام کرنے کا وقت ہو تو آپ کو وفاداری سے اور مجھے دیانت داری سے کام کرنے کی توفیق ملے اور اگر ہمارے تعاون کا وقت ختم ہو چکا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کے قدم کو ڈگمگانے