تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 37
جلد اوّل 34 تاریخ احمدیت بھارت الدین صاحب ایم۔اے درویش نے جو کوائف بتائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ مشرقی پنجاب میں مفسدہ پردازوں نے بمعاونت عسکری اداروں کے مسلمانوں کے جو علاقے اور دیہات خالی کروانے ہوتے تو وہ درج ذیل ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔1۔ہر روز معین علاقوں اور دیہاتوں کو خالی کروانے کے لئے منظم منصوبہ بندی کی جائے۔2۔جن دیہاتوں کوخالی کروانا مقصود ہوتا وہاں پولیس جاتی اور مسلمانوں سے ہر قسم کا اسحہ و ہتھیار چھین لیتی۔3۔ان کا محاصرہ کر لیا جاتا تا کہ وہ بھوک و افلاس کی تاب نہ لا کر چلے جائیں۔4۔رات کے اندھیرے میں مسلمان گھرانوں پر اچانک ہلہ بول دیا جا تا۔ان کی لڑکیوں اور عورتوں کو اغواء کر لیا جاتا۔اور بعض اوقات والدین کے سامنے ان کی عزت کو تار تار کیا جاتا۔عورتوں کے اغواء اور ان کے ننگ و ناموس اور عزت و حرمت کو پامال کرنے کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔سینکڑوں مسلمان لڑکیاں اور عورتیں فسادیوں نے اغواء کر لیں ان کے حساس اعضاء کو کاٹ دیا۔5۔مسلمانوں کے معصوم بچوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا جاتا۔بعض مقامات پر انہیں نیزوں پر لٹایا گیا۔6۔زبردستی ان کے زیورات مال و اسباب کو لوٹ لیا جاتا۔عورتوں اور بچیوں کے زیورات اتروائے جاتے اگر کوئی عورت انکار کرتی اس کا ہاتھ ، کان زیور سمیت کاٹ کر لے جاتے۔7۔دیہاتوں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیتے اور کہتے اب تمہارے لئے یہاں رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔عینی شاہدین بتا یا کرتے تھے جب لئے ہوئے ستم رسیدہ مسلمانوں کی وہ حالت ہو جاتی جو نچوڑے ہوئے نیبو کی ہوتی ہے انہیں پناہ گزینوں کے لئے بنائے ہوئے خستہ حال کیمپوں میں بھجوا دیا جاتا۔وہاں جب وہ اور انہی کی طرح مصیبت کے مارے مسلمان مختلف علاقوں سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں جمع ہو جاتے تو انہیں پولیس کی نگرانی میں جانوروں کی طرح ہانک کر پاکستانی سرحد کی طرف لے جایا جاتا۔یادر ہے پنجاب میں اگست ستمبر اکتوبر میں شدید دھوپ اور برسات کا موسم ہوتا ہے،اس لئے شدید موسم میں ہفتوں کی مسافت طے کرتے ہوئے ہزاروں بوڑھے، بیمار عورتیں اور بچے راستے میں ہی دم توڑ جاتے تھے۔شائد تین فیصدی ہی پاکستان پہنچ پاتے تھے۔راقم الحروف کو مشرقی پنجاب (ہماچل ہریانہ ) میں تقسیم ملک کے وقت کے ہر فسادز دہ علاقے میں جانے