تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 35 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 35

جلد اوّل 32 32 تاریخ احمدیت بھارت ٹھوکر آ جائے تو وہ ہمارے لئے ہوگی سلسلہ کے لئے نہیں ہوگی۔جب ہم اپنے توازن کو درست کر لیں گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کر لیں گے تو وہ حوادث خود بخود دُور ہوتے چلے جائیں گے، بلکہ وہ حوادث ہمارے لئے رحمت اور برکت کا موجب بن جائیں گے۔رسول کریم صلی یا تم نے جب مکہ سے ہجرت کی تو لوگوں نے سمجھا کہ ہم نے ان کے کام کا خاتمہ کر دیا ہے۔اور یہ حادثہ محمدرسول اللہ یا ایمن اوران کے ساتھیوں کے لئے زبردست حادثہ ہے۔لیکن جس کو لوگ حادثہ سمجھتے تھے کیا وہ حادثہ ثابت ہوا یا برکت؟ دنیا جانتی ہے کہ وہ حادثہ ثابت نہ ہوا بلکہ وہ الہی برکت بن گیا اور اسلام کی ترقیات کی بنیاد اسی پر پڑی۔پس ہماری جماعت کو اپنے ایمانوں کی فکر کرنی چاہئیے۔اگر تم اپنے ایمانوں کو بڑھالو گے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کر لو گے تو تمہارے لئے سال میں صرف دو عید میں ہی نہیں آئیں گی بلکہ ہر نیا دن تمہارے لئے عید ہوگا اور ہرنئی رات تمہارے لئے نیا چاند لے کر آئے گی تم خدا تعالی کی برگزیدہ جماعت ہو اور خدا تعالیٰ اپنی برگزیدہ جماعت کو اٹھانے اور بڑھانے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔(18) حضرت مصلح موعود نے اپنے اس خطبہ عید الفطر ) کے آخر میں جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو یہ نصیحت بھی فرمائی کہ تم اپنے متعلق صرف یہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں قربانی کا بکرا بنایا ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عیدان بکروں کی وجہ سے ہوتی ہے۔عید بالکل الگ چیز ہے اور بکرے الگ چیز ہیں۔پس تم اپنے دلوں کے اندر یہ یقین رکھو کہ تم صرف قربانی کے بکرے ہو اور جو کچھ ہے وہ تمہارا خدا ہی ہے تم کچھ بھی نہیں۔جس دن تم اس انکسار کے مقام پر کھڑے ہو جاؤ گے اور جس دن تم اعتراف نصرت باری کا مقام حاصل کر لو گے تو گو نصرت الہی اب بھی تمہارے شامل حال ہے مگر اس وقت جو اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے لئے آئے گی وہ اس سے کہیں بالا ہوگی۔پس تم اپنے آپ کو الہی قدرتوں کا آلہ بنالو۔۔۔۔تم خدا تعالیٰ کی تلوار بن جاؤ۔ہتھیار بے شک ایک بے جان چیز ہے مگر یہ نہ سمجھو کہ تم بے جان ہو کر گر جاؤ گے۔اگر ایک بادشاہ کی جوتی یا کسی بادشاہ کا قلم یا شکسپیئر کی کتابیں کچھ حیثیت رکھتی ہیں تو تم سمجھ لو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن جائے اس کی کیا حیثیت ہوگی۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر اور بڑائی کا خیال چھوڑ دو اور اپنے نفسوں پر ایک موت وارد کر لو تا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا ہتھیار بنالے۔“(19)