تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 34 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 34

تاریخ احمدیت بھارت 31 جلد اول چاہتا ہے اور ہمیں ابتلاؤں میں ڈال کر یہ دیکھنا چاہتا ہو کہ ہم میں سے کون اپنے ایمان میں کچے ہیں اور کون ہیں جو مجھ پر اور میری نصرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر حال میں ہمارا حامی و ناصر ہو اور اپنے فضل کے دروازے ہم پر کھول دے اور ہمیں ہر ابتلاء میں ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔(17) قادیان کے بھارت میں شامل ہونے کے اگلے روز مورخہ 18 اگست 1947ء کو عید الفطر تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے عید کی نماز پڑھانے کے بعد خطبہ عید میں فرمایا:۔” جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اور جب سے اللہ تعالیٰ کے رسول دنیا میں آنے شروع ہوئے ہیں یہ الہی سنت چلی آتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے درخت ہمیشہ آندھیوں اور طوفانوں کے اندر ہی ترقی کیا کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی جماعت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ان آندھیوں اور طوفانوں کو صبر سے برداشت کرے اور کبھی ہمت نہ ہارے۔جس کام کے لئے الہی جماعت کھڑی ہوتی ہے وہ کام خدا تعالیٰ کا ہوتا ہے بندوں کا نہیں ہوتا۔پس وہ آندھیاں اور طوفان جو بظاہر اس کام پر چلتے نظر آتے ہیں درحقیقت وہ بندوں پر چل رہے ہوتے ہیں۔اس کام پر نہیں چل رہے ہوتے۔اور یہ محض نظر کا دھوکہ ہوتا ہے۔جیسے تم نے ریل کے سفر میں دیکھا ہوگا کہ چل تو ریل رہی ہوتی ہے مگر تمہیں نظریہ آتا ہے کہ درخت چل رہے ہیں۔اسی طرح جب آندھیاں اور طوفان الہی سلسلوں پر آتے ہیں تو جماعتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ یہ آندھیاں اور طوفان ہم پر نہیں بلکہ سلسلہ پر چل رہے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ سلسلہ پر نہیں آرہے ہوتے بلکہ افراد پر آ رہے ہوتے ہیں۔اُن افراد پر جو اس سلسلہ پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ان آندھیوں اور طوفانوں کو بھیج کر اللہ تعالٰی مومنوں کے ایمان کا امتحان لیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام اور خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم کا امتحان لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ امتحان تو انسانوں کا لیا جاتا ہے۔پس یہ آندھیاں اور طوفان انسانوں پر آتے ہیں۔مگر انسان کم عقلی سے یہ سمجھتا ہے کہ کسی اور پر آرہے ہیں۔اور وہ طوفان جو اس کو ہلا رہے ہوتے ہیں ان کے متعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ خدائی سلسلہ کو ہلا رہے ہیں۔۔۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے کہ وہ پودا جو خدا تعالیٰ نے لگایا ہے وہ بڑھے گا پھلے گا اور پھو لے گا اور اس کو کوئی آندھی تباہ نہیں کر سکتی۔ہاں ہماری غفلتوں یا ہماری بستیوں یا ہماری لغزشوں کی وجہ سے اگر کوئی