تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 25 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 25

جلد اوّل 24 تاریخ احمدیت بھارت جائیداد خدا تعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔اسی طرح وہ اپنی زندگی بھی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے تا کہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جا سکے۔“ (12) اس کے بعد ایک اور خطبہ میں دوبارہ یاد دہانی کراتے ہوئے فرمایا :۔دو جن خطرات میں سے اس وقت ہمارا ملک گزررہا ہے اور جن خطرات میں سے اس وقت ہماری جماعت گزر رہی ہے، ان میں سے جو خطرات ظاہر ہیں وہ سب دوستوں کو معلوم ہیں۔مگر بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جو آپ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اور میں ان باتوں کو اس لئے ظاہر نہیں کرتا تاکہ کہیں کمز ور لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں ورنہ ان دنوں ہماری جماعت ایسے خطرات میں سے گزر رہی ہے کہ ان کے تصور سے مضبوط سے مضبوط انسان کا دل بیٹھ جاتا ہے اور اس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔صرف جماعت کے کمزور لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے اور بعض دوسرے مصالح کی وجہ سے میں وہ باتیں پردہ اخفاء میں رکھتا ہوں ورنہ ان دنوں میں بعض اوقات اس طرح محسوس کرتا ہوں جیسے کسی عظیم الشان محل کی دیوار میں نکل جائیں۔اور اس کی چھت کے سہارے کے لئے ایک سرکنڈا کھڑا کر دیا جائے۔تو جو حال اس سرکنڈے کا ہو سکتا ہے۔یہی حال بسا اوقات ان دنوں میں اپنا محسوس کرتا ہوں۔وہ بوجھ جو اس وقت مجھ پر پڑ رہا ہے اور وہ خطرات جو جماعت کے مستقبل کے متعلق مجھے نظر آرہے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان کا اظہار ہی مشکل ہے اور ان کا اٹھانا بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے میں اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہوں۔ورنہ کوئی انسان ایسا نہیں ہوسکتا جس کے کندھے اتنے مضبوط ہوں کہ وہ اس بوجھ کو سہار سکیں اور ان تفکرات کا مقابلہ کر سکیں۔ہماری جماعت کے حصے میں تو صرف چندے ہی ہیں۔تفکرات میں اس کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تفکرات ان تک پہنچتے ہی نہیں۔جیسے خطرہ کے وقت ماں اپنے بچے کو گود میں سلا لیتی ہے اور سارا بوجھ خود اٹھا لیتی ہے ایسی ہی حالت اس وقت میری ہے کہ اُن خطرات سے جو اس وقت مجھے نظر آرہے ہیں جماعت کو آگاہ نہیں کر سکتا اور سارا بوجھ اپنے دل پر لے لیتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے کام تو بہر حال خدا تعالیٰ نے ہی سرانجام دینے ہیں میں جماعت کے لوگوں کو کیوں پریشان کروں۔اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے گا اس کی مشیت پوری ہو کر رہے گی۔در حقیقت جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے