تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 23 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 23

جلد اوّل 22 تاریخ احمدیت بھارت طوعی چیز ہے مگر اب وقت آ رہا ہے جب طوعی چیز میں بھی فرضی بن جاتی ہیں۔چوتھی تجویز یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی موصی ہیں وہ اپنی وصیتوں کو بڑھائیں۔جو 1/10 کے موصی ہیں وہ 1/9 دیں۔اور جو 9 / 1 دیتے ہیں وہ 1/8 دیں۔وعلی ھذا۔چوتھی تجویز قادیان کی جائیدادوں کے متعلق ہے کہ جب وہ بیچی جائیں تو جو نفع ہو اس نفع کا 50/100 سلسلہ کو دیا جائے۔اور جن کے پاس پہلی جائیدادیں ہیں وہ منافع کا 1/10 فی صدی سلسلہ کو دیں۔میں آئندہ کے لئے یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ کوئی جائیداد امور عامہ کے علم اور مرضی کے خلاف فروخت نہ ہو۔اس حکم کا اطلاق آج سے شروع ہو گا۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ”اب رہا یہ سوال که اگر ان تجاویز کے باوجود مطلوبہ رقم جس کی اس وقت سلسلہ کے کام چلانے اور مرکز کی حفاظت کے لئے ضرورت ہے پوری نہ ہو تو میری کوٹھی دارالحمد کو بیچ کر کمی پوری کی جائے۔کوٹھی کے ساتھ بہت سی زمین اور باغ بھی ہے جس کی مالیت چند لاکھ کے قریب ہے۔میرے پاس نقد روپیہ نہیں ہے۔جماعت کے دوست یہ کریں کہ اسے خرید لیں“۔(11) تحریک وقف جائیداد وقف جائیداد ایک ایسی تحریک تھی جس کی بعید از قیاس حکمت کو بعض افراد جماعت قلت فہم کی وجہ سے سمجھ نہیں پارہے تھے۔مگر اس کے غیر معمولی فوائد و برکات کی وجہ سے سیدنا مصلح موعودؓ نے اپنے خطبہ میں اس تحریک کو دوبارہ واضح کرتے ہوئے فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریک بھی ہمارے سلسلہ کی اور تحریکوں کی طرح اپنے اندر خدا تعالیٰ کی بہت بڑی حکمتیں رکھتی ہے اور اس کی خوبیاں صرف اس کی ذات تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ایک بنیاد ہے آئندہ بہت بڑے اور عظیم الشان کا موں کو سرانجام دینے کی۔اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی تحریک نہیں بلکہ اس تحریک کے ذریعہ ہماری جماعت کی ترقی اور سلسلہ کے مفاد کے لئے بعض نہایت ہی عظیم الشان کاموں کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔گو اب تک لوگ اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھے لیکن دو چار سال تک اس کے کئی عظیم