تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 393 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 393

جلد اوّل 362 تقسیم ملک کے بعد بھارت میں تبلیغ حق میں مصروف مبلغین تاریخ احمدیت بھارت تقسیم ملک سے قبل جماعت احمد یہ برصغیر کی ایک خالص تبلیغی اور روحانی جماعت کہلاتی تھی۔جس کی تمام سرگرمیاں نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے وقف رہیں۔بے شک 1947ء کے فرقہ وارانہ فسادات میں اس جماعت کا مرکز بھی مظالم کا نشانہ بنا۔جس کی وجہ سے اس جماعت کے تبلیغی نظم ونسق اور کاروائیوں میں وقتی طور پر تعطل واقع ہوا مگر پھر بھی یہ حالات چند ماہ قائم رہنے کے بعد بدل گئے اور حضرت مصلح موعودؓ کی توجہ کے طفیل مبلغین کے نظام عمل میں جو بظاہر بالکل درہم برہم ہو گیا تھا، پھر سے حرکت پیدا ہو گئی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے از سر نو مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گیا۔اس جگہ بھارت کے ان احمدی مبلغین کا ذکر کرنا مقصود ہے جنہوں نے تقسیم ملک کے وقت نامساعد حالات میں بھی اپنے اپنے علاقہ میں تبلیغ اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند رکھا۔اور ناقابل برداشت مصیبتوں کے وقت بھی نہایت استقلال کے ساتھ اشاعت اسلام میں سرگرم عمل رہے۔اور بعد میں بھی خدمت اسلام کی توفیق پائی۔مکرم مولا نا عبد اللہ صاحب مالا باری ( جنوبی بھارت میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی احمد رشید صاحب مالا باری ( علاقہ مالا بار میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) -1 -2 -3 مکرم مولوی محمد سلیم صاحب ( مغربی بنگال کلکتہ میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب دیا گڑھی ( اتر پردیش لکھنو میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی حکیم محمد دین صاحب (مہاراشٹر بمبئی میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی عبدالمالک خاں صاحب ( حیدر آباد دکن میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی فضل دین صاحب (آگرہ یو پی میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) مکرم مولوی سمیع اللہ صاحب دھرم پر کاش ( بہار میں تبلیغ اسلام کی خدمت بجالا رہے تھے ) ان مبلغین میں سے مولوی محمد اسمعیل صاحب دیا گڑھی اور مولوی عبد المالک خاں صاحب کچھ عرصہ تک بھارت میں کامیابی سے خدمت سلسلہ کا فریضہ ادا کرنے کے بعد پاکستان چلے گئے۔(50)