تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 391
جلد اوّل 360 تاریخ احمدیت بھارت بعد ازاں سوا بارہ بجے سے پونے ایک بجے تک مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب نے برکات دعا کے مضمون پر تقریر کی۔اجلاس دوم اس روز کا اجلاس دوم بشیر احمد صاحب آف گوجرانوالہ کی تلاوت سے شروع ہوا۔آپ نے سورۃ الفتح کا آخری رکوع تلاوت کیا۔پھر یونس احمد صاحب اسلم نے ایک نظم سنائی۔ازاں بعد مولوی غلام مصطفی صاحب بدوملہی نے آنحضرت ﷺ کے مصائب پر صبر اور توکل علی اللہ“ کے موضوع پر دو بجگر پچیس منٹ سے بتیس (32) منٹ تک تقریر کی۔جس میں آنحضرت صلیم اور آپ کے صحابہ کے مصائب پر صبر کے بہت سے سبق آموز واقعات سنائے۔اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا اظفر احمد صاحب بارایٹ لاء نے ” ہمارا قادیان کے عنوان پر تیس منٹ میں ایک بہت ہی دلچسپ اور ایمان افروز مقالہ پڑھا۔جس میں قادیان کے آباد ہونے کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباء کرام کے حالات انگریزوں کی حکومت سے قبل قادیان کے اُجڑنے کے واقعات اور ایک سکھ ریاست میں پناہ لینے ، پھر قادیان میں واپسی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب سے چند دیہات واپس ملنے کا ذکر کر کے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا مقصد تھا؟ ہمیں قادیان کیوں پیاری ہے؟ اور ہمارا حکومت سے اور غیر مسلموں سے کیا سلوک ہونا چاہیے اور کیا سلوک ہوگا ؟ آپ کی تقریر کے بعد مولوی شریف احمد صاحب امینی نے حضرت امیر المومنین کا پیغام دوبارہ سنایا۔آخر میں حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ صدر جلسہ نے پھر حکام اور غیر مسلم سامعین اور مقررین اور احمدی حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔اور حکام کو جماعت کی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے بتایا کہ جب کوئی غیر مسلم نہیں کہہ سکتا کہ قادیان میں اپنی اکثریت کے زمانہ میں ہم نے اس کی عزت ، مال اور جان پر کبھی ہاتھ ڈالا ہو تو اب جبکہ ہم نہایت اقلیت میں ہیں ہم سے انہیں کیا خوف ہوسکتا ہے؟ نیز وعدہ کیا کہ ہم نئے بسنے والے غیر مسلموں سے بھی ہمیشہ اپنی طاقت کے مطابق حسن سلوک کریں گے۔کیونکہ وہ ہمارے مہمان ہیں۔پھر آپ نے حضرت امیر المومنین الصلح الموعود اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے احباب کو