تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 390
تاریخ احمدیت بھارت 359 جلد اول حضرت مسیح موعود کی بعض پیشگوئیاں بیان کیں۔اس تقریر کے بعد اجلاس ملتوی ہوا۔(46) اجلاس دوم سب سے قبل مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے سورہ یوسف کا پہلا رکوع تلاوت کیا۔پھر حافظ عبد الرحمن صاحب پشاوری نے آنحضرت صلی اتم کی مدح میں ایک نظم پڑھی۔ازاں بعد ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کی مفصل تقریر ” حضرت مسیح موعود اور آپ کے خدام کا غیر مسلموں سے سلوک“ کے عنوان پر ہوئی۔آپ کے بعد مکرم مولوی شریف احمد صاحب امینی نے 2:58 سے پون گھنٹہ تک تقریر فرمائی۔جس میں اسلام اور آنحضرت سال پریتم کی تعلیم رواداری وغیرہ کے متعلق غیر مسلموں کی آراء کا بھی تذکرہ کیا۔اس تقریر کے بعد جلسہ میں موجود 33 ہندو سکھ دوستوں میں ارجن سنگھ صاحب عاجز ایڈیٹر اخبار رنگین امرتسر کی کتاب ”سیر قادیان“ کے نسخے تقسیم کئے گئے۔اس کارروائی کے بعد بشیر احمد صاحب آف گوجرانوالہ نے حضرت مصلح موعودؓ کی نظم ” تعریف کے قابل ہیں یا رب تیرے دیوانے‘ سنائی۔پھر قریشی عبدالرشید صاحب آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ نے پچیس منٹ تک تحریک جدید کے قیام کی اہمیت پر دو تقریر کی۔اور یہ اجلاس سوا چار بجے اختتام پذیر ہوا۔(47) -3 جلسے کا تیسرا دن 28 دسمبر 1947ء اجلاس اول حسب سابق یہ اجلاس بھی حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل کی صدارت میں شروع ہوا۔سب سے پہلے آپ نے احباب سمیت دعا کی۔پھر مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے سورہ مریم کے دوسرے رکوع کی تلاوت کی۔پھر جناب حافظ عبد الرحمن صاحب پشاوری نے نظم پڑھی۔آپ کے بعد چوہدری سعید احمد صاحب بی اے نے پونے گیارہ سے بیس منٹ تک اصلاح نفس کے ذرائع بیان کئے۔پھر مولوی شریف احمد صاحب امینی نے حکومت و رعایا کے باہمی تعلقات اسلام اور احمدیت کے نقطہ نگاہ سے“ کے موضوع پر پچیس منٹ تک ایک سیر حاصل تقریر کی۔اس کے بعد یونس احمد صاحب اسلم نے اپنے والد ماسٹرمحمد شفیع صاحب اسلم (سابق امیر المجاہدین ملکانہ) کی ایک نظم سنائی۔