تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 389
جلد اول 358 تاریخ احمدیت بھارت اور نہ کسی قسم کا جھگڑا کرنا جائز ہوگا۔سو ان خاص ایام میں ہمیں بھی ان باتوں سے پر ہیز واجب ہے۔اس اصولی ہدایت کے بعد مولوی غلام احمد صاحب ارشد مولوی فاضل نے دلکش ، دلآویز اور وجد انگیز آواز سے سورۃ یوسف میں سے فلما دخلوا عليه سے الحقني بالصلحین (44) تک کی آیات کی تلاوت فرمائی۔آپ کے بعد حافظ عبدالرحمن صاحب پشاوری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور نظم۔اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے۔نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ازاں بعد پہلے مولوی شریف احمد صاحب امینی سابق مدرس مدرسہ احمدیہ نے باون منٹ تک خصوصیات اسلام“ کے عنوان پر اور پھر مولوی عبد القادر صاحب احسان نے پچیس منٹ تک زمانہ روحانی مصلح کا متقاضی ہے“ کے عنوان پر تقریریں کیں اور یہ اجلاس چار بج کر دومنٹ پر اختتام پذیر ہوا۔(45) 2 جلسے کا دوسرا دن 27 دسمبر 1947ء اجلاس اول اس روز پہلا اجلاس بھی حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔سب سے قبل آپ نے حاضرین سمیت دعا فرمائی۔پھر عبدالرحمن ( عبید الرحمن۔ناقل ) صاحب فانی بنگالی نے سورہ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کی۔پھر میر رفیع احمد صاحب گجراتی نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی مقبول عام نظم ”علیک الصلوۃ علیک السلام “ نائی۔پھر دس بجکر سینتالیس منٹ سے ساڑھے گیارہ بجے تک مولوی غلام مصطفیٰ صاحب فاضل بد و ملہوی نے نہایت عمدگی سے حضرت مسیح موعود کے کارنامے کے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔پھر مولوی غلام احمد صاحب ارشد نے قرآن مجید کی پیشگوئیاں اس زمانے کے بارہ میں“ کے موضوع پر سوا بارہ بجے تک فاضلانہ تقریر کی۔آپ کے بعد بشیر احمد صاحب گوجرانوالہ نے متحدہ ہندوستان کے آخری سالانہ جلسہ 1946ء کے موقعہ کی حضرت مصلح موعود کی نظم ”اللہ کے پیاروں کو تم کیسے برا سمجھے خوش الحانی سے سنائی نظم کے بعد مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی نے عہد حاضر سے متعلق