تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 388
تاریخ احمدیت بھارت 357 جلد اوّل میں دیتا ہے جو بخشتے ہیں اور چشم پوشی کرتے ہیں اور خود تکلیف اٹھاتے ہیں تا کہ خدا کے بندوں کو آرام پہنچے۔ہر ایک مغرور ، خود پسند اور ظالم عارضی خوشی دیکھ سکتا ہے مگر مستقل خوشی نہیں دیکھ سکتا۔پس تم نرمی کرو اور عفو سے کام لو اور خدا کے بندوں کی بھلائی کی فکر میں لگے رہو۔تو اللہ تعالیٰ جس کے ہاتھ میں حاکموں کے دل بھی ہیں وہ ان کے دل کو بدل دے گا اور حقیقت حال ان پر کھول دیگا یا ایسے حاکم بھیج دیگا جو انصاف اور رحم کرنا جانتے ہوں۔تم لوگ جن کو اس موقعہ پر قادیان میں رہنے کا موقعہ ملا ہے اگر نیکی اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تاریخ احمدیت میں عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے اور آنے والی نسلیں تمہارا نام ادب و احترام سے لیں گی۔اور تمہارے لئے دعائیں کریں گی اور تم وہ کچھ ہے کریں گی اور تم وہ کچھ پاؤ گے جو دوسروں نے نہیں پایا۔اپنی آنکھیں نیچی رکھو لیکن اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کرو۔فلنولینک قبلة ترضها۔خاکسار مرزا محمود احمد ( خلیفہ اسیح الثانی) 23 دسمبر 1947 ء )‘ (42) حضرت امیر المومنین کے اس روح پرور اور درد انگیز پیغام نے جہاں درویشوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی وہاں حضور کے رخ انور کی زیارت اور حضور کی مجلس علم وعرفان اور پاک اور مقدس کلمات سے محرومی کا تکلیف دہ احساس یکا یک بڑھ گیا۔اور مسجد اقصیٰ آہ و بکا، گریہ وزاری اور کرب و الم کا ایک زہرہ گداز منظر پیش کرنے لگی۔حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب پیغام پڑھ چکے تو آپ کی استدعا پر صاحبزادہ مرز اظفر احمد صاحب نے غم رسیدہ درویشوں کے ساتھ نہایت در داور الحاح اور تضرع اور ابتہال سے ایک لمبی اور پرسوز دعا کرائی۔دعا کے بعد مولوی محمد ابراہیم صاحب قادیانی نے ساڑھے گیارہ بجے سے بارہ بجے تک ” ذکر حبیب“ کے موضوع پر تقریر کی۔جو سالانہ جلسہ پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا ہمیشہ محبوب موضوع ہوتا تھا۔اس تقریر کے بعد اجلاس اول ختم ہوا۔اجلاس دوم۔صدر جلسہ حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب نے دوسرے اجلاس سے قبل فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سالانہ جلسہ کو حج کے عالمگیر اجتماع سے تشبیہ دی ہے۔اور حج کی نسبت ارشادر بانی ہے فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج (43) حج (کے ایام ) میں نہ تو کوئی شہوت کی بات نہ کوئی نافرمانی