تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 373 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 373

جلد اوّل 342 تاریخ احمدیت بھارت میں نے آپ کی تجویز کے مطابق ڈاک خانہ اور ٹیلی فون گھر کے کرایہ کے متعلق گورداسپور چٹھی لکھ دی ہے مگر پوسٹ ماسٹر کی بجائے سپر نٹنڈنٹ کو لکھی ہے معلوم نہیں آپ نے پوسٹ ماسٹر کا نام کیوں تجویز کیا تھا۔(22) مولوی عبد الرحمن صاحب نے اغوا شدہ عورتوں میں سے جو قادیان واپس آگئی ہیں ان کے متعلق اعلان کرنے کے بارہ میں لکھا تھا مگر ابھی تک ایسی عورتوں کی مکمل فہرست مجھے نہیں ملی جس میں نام و پستہ وزوجیت و عمر وغیرہ کے کوائف درج ہوں۔آپ ایسا نقشہ بنا کر بھیج دیں تو انشاء اللہ اعلان وغیرہ کے ذریعہ ہر ممکن کوشش کی جائے گی“۔(موصولہ قادیان 20 /دسمبر 1947ء)(23) -3 خط بنام مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی قادیان ” آپ نے لکھا ہے یا شاید ملک صاحب ( ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے) نے لکھا تھا کہ حکومت نے چھینی ہوئی موٹروں کا ٹیکس مانگا ہے۔آپ کو اس کا یہ جواب دینا چاہئیے کہ موٹر میں ہمیں واپس دے دی جائیں ہم بڑی خوشی سے ان کا ٹیکس ادا کر دیں گے۔یا کم از کم ہمیں تسلی کرا دی جائے کہ وہ عنقریب واپس کر دی جائیں گی تو پھر بھی ہم ان کا ٹیکس ادا کر دیں گے“۔(24) ”اس کے علاوہ جو موٹریں قادیان میں حکومت کے افسروں نے ہم سے لے لی ہوئی ہیں ان کے متعلق درخواست دینی چاہئیے کہ اب جبکہ ہنگامی حالات بدل چکے ہیں تو مہربانی کر کے ہمیں موٹریں واپس دلائی جائیں۔جتنی موٹریں یا ٹرک چھینے گئے ہوں خواہ وہ انجمن کے ہوں یا احمدی افراد کے ان کے متعلق مطالبہ ہونا چاہیئے۔مگر فہرست احتیاط سے بنائی جائے تا کہ مالکوں کے نام اور موٹروں کی قسم اور نمبر میں غلطی نہ لگے۔یہ خیال رہے کہ جو کمانڈ کار فیض اللہ چک کے پاس پکڑی گئی تھی وہ کیپٹن عبداللہ باجوہ کی تھی اور انہی کے نام پر مطالبہ ہونا چاہیے۔اسی طرح ایک یا دو موٹر سائیکل بھی ضبط شدہ ہیں انہیں بھی اپنے مطالبہ میں شامل کر لیا جائے“۔(18 /دسمبر 1947ء)(25) -4 خط بنام مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی قادیان اس سوال کا جواب کہ صدر انجمن احمد یہ قادیان کے ممبروں کے متعلق مشرقی پنجاب کے رجسٹرار کو اطلاع دینے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ ناظر اعلیٰ لاہور سے پوچھ کر بھجوا ؤں گا۔عموماً ایسی اطلاع ہر